اقتدار میں آئے تو بار بار حکومت جانے کی پیشگوئیاں ہوتی رہیں،عمران خان
اسلام آباد:وزےراعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت بنی تو کہا جاتا تھا کہ اس ہفتے گھر چلی جائے گی۔ بار بار حکومت جانے کی پیشنگوئیاں ہوتی رہیں۔ ہمیں عوام نے 5 سال کے لیے مینڈیٹ دیا ہے۔ ہم پانچ سال کے لیے ہیں، پانچ سال بعد احتساب ہونا چاہیے کہ ہم نے ملک اور عوام کے لیے کیا کیا، 50 لاکھ گھروں کے منصوبوں میں سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی بنڈل آئی لینڈ کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ قبضہ مافیا کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے۔ پنجاب حکومت نے قبضہ مافیا سے 200 ارب روپے کی ریکوری کروائی۔ تفصیلا ت کے مطابق وزیراعظم عمران خان محنت کش اور مزدوروں کیلئے چھت کی فراہمی کا وعدہ پور کردیا ،1500فلیٹس کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ،اس موقع پر پودا بھی لگایا گیا۔منصوبے کا سنگ بنیاد کی تقریب کااہتمام کیا گیا جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض سینیٹر فیصل جاوید نے سرانجام دیئے۔تقریب کے دوران گھروں کی تقسیم کیلئے10خوش نصیبوں کیلئے قرعہ اندازی کی گئی،وزیراعظم پرچیاں نکالتے رہے۔تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ زلفی بخاری اورورکرز ویلفیئر فنڈ کی ٹیم خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،پچیس سال پرانے پراجیکٹ کو حقیقت کا روپ دے کر آپ نے لوگوں کو گھر فراہم کردیئے ہیں جو بہت بڑی کامیابی ہے ،پچیس سال سے کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس پراجیکٹ کو بھی ترجیح دیں جو لوگ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اپنے گھر بناسکیں گے ان لوگوں کے لئے ہمارے ملک میں کبھی بھی کام نہیں ہوا کبھی اس طبقے کا نہیں سوچا گیا ،نیا پاکستان نئی سوچ کا نام ہے ، نیا پاکستان کا مطلب ایک کمزور ، غریب طبقے کو ہم نے اس کو اوپر لے کر آنا ہے اور حکومت سب سے پہلے اپنے ایکشن سے ثابت کرتی ہے کہ ایک نئی سوچ اور نیا طرز حکومت لے کر آئی ہے یہ کسی پر احسان نہیں ہے یہ محنت کشوں اور مزدوروں کا حق ہے۔پہلے کرایوں پر گھر ملتے تھے اب یہ ان کے اپنے گھر ہیں ،اور وہ یہی کرایہ قسطوں میں ادا کرکے اپنے مالکانہ حقوق حاصل کرلیں گے۔دیہاتوں میں چھت بنانا آسان ہوتا ہے لیکن شہروں کے اندر زمین مہنگی ہونے کے باعث مزدور اور محنت کش اور تنخواہ دار شخص گھر بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور شہر میں ان کے لئے ناممکن ہے کہ وہ گھر بنا سکے لیکن آج جو ہم نے آغاز کیا ہے ،نیا پاکستان ہاﺅسنگ نے ہر فلیٹس پر تین لاکھ روپے حکومت نے سبسڈی دی اور اس کے علاوہ ہم نے سود بھی روک دیا ہے اور پانچ فیصد تک سود وہی رہے گا اگلے بیس سال تک آپ کے لئے قرضوں کی قسطیں دینے کا موقع ہو گا ،اگلے فیز میں پندرہ سو فلیٹس بنیں گے ،پشاور میں بھی یہ کام شروع کیا جارہا ہے ،جیسے جیسے حکومت کی آمدن بڑھتی جائے گی ہم اس پروگرام پر پیسہ لگاتے جائیں گے اور محنت کشوں کو آسان قسطوں پر گھر دیں گے ، کوئی بھی دنیا کی حکومت اس طرح گھر نہیں بانٹ سکتی ،کورونا کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے ،معیشت کو نقصان پہنچا اگر پاکستان بچا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ کنسٹرکشن انڈسٹری ہے ،سیمنٹ اور سریا کی قیمت اوپر گئی ہے تو اس سے کنسٹرکشن انڈسٹری چل پڑی ہے کنسٹرکشن انڈسٹری سے سب سے زیادہ روز گار ملتا ہے ،اس سے روزگار بھی ملے گا اور ملکی دولت میں اضافہ ہو گا جب اضافہ ہو گا تو ملک کے قرضے اتارنے میں مدد ملے گی۔تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ عمران خان کا جینا مرنا غریب عوام کےساتھ ہے انہوں نے اپنے لئے کوئی کاروبار ،کوئی محل اور کوئی جائیدادیں نہیں بنائی ہیں اور نہ ہی ان کو ان چیزوں میں دلچسپی ہے بلکہ وہ غریبوں کو گھر، روزگار کی فراہمی اور غریبوں کو غربت کی لکیر سے اوپر لے جانے کے لئے کام کررہے ہیں ، آج سے غریبوں کو گھروں کی فراہمی کا عمل شروع ہوگیا ہے اب غریبوں کا اپنا مکان ہوگا اور یہی نیا پاکستان ہے۔انہوں نے کہاکہ زلفی بخاری نے بہت محنت کی اس کے علاوہ چیئرمین ہاﺅسنگ نے بھی بڑا محنت کا کام کیا اور عمران خان کے ویڑن کو بڑی تیزی سے پورا کیا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ یہ وہ غریب لوگ ہیں جو اپنے خون پسینے سے ملک کی معیشت چلاتے ہیں اور جب بڑھاپے میں آتے ہیں تو ان کے پاس چھت بھی نہیں ہوتی یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ آج ہم اس مقام پر پہنچتے اگر وزیراعظم کا نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام نہ ہوتا۔اس پروگرام کے تحت ہم نے ڈبلیو ڈبلیو ایف میں ایک بنیادی تبدیلی لے کر آئے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا پہلے کرایے پر گھر دیئے جاتے تھے ،ہم نے کرائے کے گھر کو ختم کرکے لوگوں کو مالکانہ حقوق دیئے جو تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے ،انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کے ذریعے تین لاکھ روپے کی سبسڈی ملی اور یہ سب وزیراعظم عمران خان کی کاوشیں ہیں جب ہم نے یہ تین لاکھ کی سبسڈی لی تو ایک گھر تیس لاکھ 54 ہزار کا پڑتا ہے اور ایک فلیٹس 21 لاکھ چوبیس ہزار کا پڑتا ہے۔آج خوشی کا موقع ہے اس میں کوئی سیاسی بات نہ کروں لیکن ماضی کی جو حکومتوں کے کرتوت تھے اور اس عظیم محنت کش طبقے کے ساتھ جو ظلم کیا ہے اس حوالے سے آپ کو بتانا چاہتا ہوں یہ پراجیکٹ1996 میں شروع ہوا یعنی پچیس سال پہلے شروع ہوا تھا ،ہمارے غریبوں اور محنت کشوں کے ویلفیئرکے پیسے اس پراجیکٹ میں ڈوبا ہوا تھا کئی حکومتیں آئیں اور کئی گئیں لیکن کچھ بھی نہیں کیا ،بھول گئے تھے ،پچیس سال بعد وزیراعظم عمران خان آئے اور ان کی ہدایت کے مطابق اس پراجیکٹ کو مکمل کیا جارہا ہے 950فلیٹس مکمل طورپر تیار ہیں اور باقی بھی تیارہورہے ہیں۔350گھر آج بھی تیار ہیں اور 150گھر اگلے مہینے تیار ہوجائیں گے۔اس کی مسجد ،کمیونٹی روم ،سکولز یہ پوری سوسائٹی اگلے دو سے تین مہینوں میں محنت کشوں کے لئے آباد ہوجائے گی۔میں اپنی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے محنت کی ہے