بین الاقوامی خبریں

غزہ،اسرائیل کا ہسپتال پروحشیانہ حملہ ،500 افراد شہید

غزہ ،واشنگٹن،ماسکو : اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے غزہ میں الاہلی عرب ہسپتال پر فضائی حملے میں کم از کم 500 افراد جاںبحق ہو گئے ہیںجبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ الاہلی ہسپتال پر اس نے حملہ نہیں کیا بلکہ وہ غزہ سے ہی داغے گئے راکٹ کا نشانہ بنا،امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ غزہ کے الاہلی ہسپتال پر حملہ اسرائیل کا نہیں بلکہ دوسرے فریق کا کام ہے تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھیں اس بات کا یقین نہیںدوسری جانب غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں میں اس کے 1400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق غزہ کے الاہلی عرب ہسپتال پر حملے اور دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 500 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ فلسطینی حکام نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے جبکہ اسرائیل نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکہ فلسطینی اسلامی جہاد کی جانب سے داغے گئے راکٹ کے باعث ہوا ہے۔ غزہ میں الاہلی اسپتال پر اسرائیلی طیاروں کی ہولناک بمباری کے بعد اسپتال کے انڈر سیکرٹری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے حملے سے قبل اسپتال کے ڈائریکٹر کو میزائل حملے کی دھمکی دی تھی۔گزشتہ رات غزہ شہر کے الاہلی اسپتال کو اسرائیلی طیاروں نے نشانہ بنایا تھا، اسپتال طبی عملے، مریضوں کے علاوہ اور بے گھر ہونے والے افراد نے پناہ لی تھی۔واقعے کے بعد وزارت صحت کے انڈر سیکرٹری یوسف ابو الریش نے اسپتال کے باہر پریس کانفرنس کی جہاں ان کے آس پاس بچوں کی لاشیں بھی موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کی اگلی صبح اسرائیلی فورسز نے اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہر ایاد کو فون کال کرکے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ’ آپ کو کل شیلنگ کے ذریعے خبردار کیا گیا تھا، اب تک اسپتال خالی کیوں نہیں ہوا؟‘ڈاکٹر یوسف ابو الریش نے مزید کہا کہ ’دنیا میں واحد جگہ جہاں لوگوں کو میزائل فائر کرکے حملے سے خبردار کیا جاتا ہے وہ غزہ کی پٹی ہے، یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں گھروں پر بمباری کرکے بمباری سے خبردار کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’آپ سب نے وہ مجرمانہ دھمکیاں سنی ہوں گی جن پر اسرائیلی رہنما کو کوئی شرم نہیں آئی، یوسف ابو الریش نے دعویٰ کیا کہ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہر نے جب اسرائیلی فوجیوں سے سوال کیا کہ انہوں نے دوبارہ فون کال کیوں نہیں کی تو اسرائیلی فوجی نے جواب دیا کہ ’ہم نے اسپتال فون کیا تھا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا، لہذا ہمیں آپ کو ان میزائلوں سے خبردار کرنا پڑا۔‘ ادھر اسرائیلی فوج نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسپتال پر حملہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسپتال میں لگنے والے راکٹس اسلامی جہاد نے داغے تھے جو غلطی سے اسپتال پر لگے۔اس ویڈیو کی بنیاد پر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ متعدد انٹیلی جنس ذر ائع سے حماس کی اتحادی تنظیم اسلامی جہاد کے راکٹس کے نشانہ چوک جانے اور اسپتال کو لگنے کی تصدیق ہوئی ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہگاری نے مزید کہا کہ حملے کے وقت اسپتال کے قریب اسرائیل کوئی فضائی کارروائی نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی اسپتال کو لگنے والے راکٹس اسرائیلی فوج کے زیر استعمال راکٹس سے ملتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’غزہ میں ہسپتال پر حملہ بظاہر دوسرے فریق نے کیا۔‘ وہ غزہ میں الاہلی ہسپتال پر ہونے والے حملے کے بعد اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریش کانفرنس کر رہے تھے جہاں انھوں نے کہا کہ ’ہسپتال کے واقعے پر انھیں بہت دکھ ہوا۔‘ تاہم جو بائیڈن نے کہا کہ ’میں نے جو دیکھا اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ کام دوسرے فریق نے کیا، آپ نے نہیں۔‘بائیڈن نے کہا کہ ’بہت سے لوگوں کو یقین نہیں ہے تو ہمیں ابھی بہت سی چیزوں پر کام کرنا ہے۔‘ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی فضائی حملے کی شدید مذمت کی اور اسے ایک خوفناک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرا دل متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہے۔ روس کی جانب سے غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی بمباری کو جرم اور غیر انسانی فعل قرار دے دیا گیا۔روسی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے ہسپتال پر حملے اور اس کے نتیجے میں ہونیوالی اموات کو غیر انسانی جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ اگر اسرائیل اس حملے میں ملوث نہیں توثبوت فراہم کرے۔روس کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ روز کہا کہ غزہ کے ایک ہسپتال پر حملہ جس میں سینکڑوں فلسطینی جان سے گئے،ایک چونکا دینے والا جرم تھا۔ان کاکہناتھا کہ اسرائیل کو یہ ثابت کرنے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنی چاہیے کہ وہ اس حملے میں ملوث نہیں تھا۔ترجمان روسی وزارت خارجہ کاکہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتی صورتحال خطے کے باہر تک پہنچ چکی ہے، یہ عالمی پیمانے پر ایک عالمی بحران ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے غزہ میں ہسپتال پر اسرائیلی قابض فوج کی بمباری کو گھناو¿نا جرم قرار دے دیا، سعودی عرب کے علاوہ ترکیہ، عمان، قطر اور مصر اور دیگر ملکوں نے بھی اس انسانیت سوز حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کردی ہے۔اسرائیل کی سفاکانہ کارروائی پر رد عمل دیتے ہوئے اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم نے خبردار کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جو خطے کو ناپسندیدہ نتائج کے ساتھ تباہی کی طرف لے جائے گی۔سلطنت عمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے غزہ شہر کے ہسپتال پر بمباری کی صورت میں جو کچھ کیا گیا وہ جنگی جرم اور نسل کشی کی نمائندگی کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی ابتر صورتحال کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 24 گھنٹے میں ہرصورت امداد کی ضرورت ہے، بمباری کا نشانہ بننے والے علاقوں میں امدادی سامان بھیجنے کی اجازت دی جائے۔ایران کے دارالحکومت تہران میں برطانیہ اور فرانس کے سفارتخانوں کے باہر سیکڑوں افراد نے اسپتال پر بم دھماکے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، 12 ہزار 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔