صحافیوں کو خوف، دباو اور سنسرشپ سے پاک ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،روبینہ خالد
اسلام آباد :چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ صحافیوں کو خوف، دباو اور سنسرشپ سے پاک ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے‘اے آئی کے دور میں ذمہ دار، مستند اور تصدیق شدہ صحافت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ آزادی صحافت جمہوریت کی بنیاد ہے، اس پر کسی قسم کی قدغن ناقابلِ قبول ہے‘اظہارِ رائے پر پابندیاں معاشرتی ترقی اور جمہوری تسلسل کے لیے نقصان دہ ہیں‘پاکستان پیپلز پارٹی ہر دور میں آزادی صحافت اور جمہوری اقدار کی علمبردار رہی ہے۔صحافیوں کو خوف، دباو اور سنسرشپ سے پاک ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے‘میڈیا پر غیر ضروری سختیاں سچ کو دبانے کے مترادف ہیں‘اے آئی کے دور میں ذمہ دار، مستند اور تصدیق شدہ صحافت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔سینٹر روبینہ خالد نے کہا کہ فیک نیوز اور ڈیپ فیک کے خلاف پیشہ ورانہ صحافت ہی موثر دفاع ہے‘آزادی کے ساتھ قومی مفاد اور ریاستی تشخص کا تحفظ بھی ناگزیر ہے‘پاکستان کا مثبت امیج عالمی سطح پر اجاگر کرنا میڈیا کی اہم ذمہ داری ہے‘سنسنی خیزی کے بجائے تحقیق، توازن اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ وقت کی ضرورت ہے‘آزادی صحافت کے بغیر شفاف احتساب اور مضبوط جمہوریت ممکن نہیں‘اختلافِ رائے کو دبانا نہیں بلکہ برداشت کرنا جمہوری روایات کا حصہ ہے۔سینٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات کا پھیلاو قومی نقصان کا سبب بن سکتا ہے‘صحافیوں کے حقوق کا تحفظ اور آزادی پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح ہے‘سچ بولنے والوں کو خاموش کرانا مسائل کا حل نہیں بلکہ بحران کو جنم دیتا ہے۔