خطے میں کشیدگی، انجام کیا ہو گا؟
تحریر: انور خان لودھی….سچ تو یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک ایک بڑے جنگی ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ نہ کھولنے پر خطرناک حملوں کی دھمکی دی تھی۔
ایران پرامریکی حملوں کے بعد پاکستان ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر سامنے آیا
وہ ابتدائی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ایران امریکہ مذاکرات کی راہ ہموار ہونے لگی تو ٹرمپ نے اس ڈیڈلائن میں 5 دن کا اضافہ کردیا تھا۔ ٹرمپ یہ بھی”فرماتے“ ہیں امریکا کو آبنائے ہر مزکی ضرورت نہیں۔ آبنائے کی بندش سے امریکا پر پڑنے والے اثرات کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا امریکا کے پاس پہلے ہی بہت تیل ہے۔ امریکا کے پاس سعودی عرب اور روس سے د±گنا تیل ہے۔ بہت جلد یہ تین گنا ہوجائے گا۔انہیں امریکی صدر کا بیان ہی تصور کیا جائے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں شدید دباﺅ کی کیفیت میں ہیں۔اب وہ جنگ شروع کرنے کا الزام اپنے وزیر دفاع پہ ہی دھر رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد جب خطے میں وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھنے لگے تو پاکستان ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر سامنے آیا اور اس نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پیشکش کی۔ یہ کردار کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔ ایک طرف پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ نسبتاً اچھے تعلقات ہیں اور دوسری طرف اس کے اپنے مفادات بھی اس جنگ کے خاتمے سے وابستہ ہیں۔مبصرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی کی کوششیں تنازعے میں کسی حد تک تحمل پیدا کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر بڑے حملے موخر کر دیے ہیں جبکہ ایران کا ردعمل بھی محدود رہا ہے، جو سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں عمان اور قطر جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک نے کردار ادا کیا لیکن جنگ کے دوران ان ممالک پر ایرانی حملوں کے بعد پاکستان نے یہ کردار سنبھال لیا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کے ہمسایہ ہونے اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان ایک منفرد پوزیشن میں ہے، خاص طور پر اس وقت جب دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطہ محدود ہے۔
امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تو گزشتہ سال پاکستان ایک دفاعی معاہدہ بھی کر چکا ہے۔ تاہم فلسطینی معاملے کی بنیاد پر پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔گزشتہ سال سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، جس میں سفارتی روابط اور معاشی تعاون میں اضافہ شامل ہے۔ پاکستان نے بہت سی تنقید کے باوجود غزہ میں امن کے لیے قائم ٹرمپ کے ”بورڈ آف پیس“ میں بھی شمولیت اختیار کی۔حالیہ برسوں میں بظاہر پاکستان نے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان رابطے قائم کرنے میں بھی مدد دی، جس کے نتیجے میں دوحہ مذاکرات ہوئے اور 2020 کا معاہدہ طے پایا، جس نے 2021 میں نیٹو افواج کے انخلا اور طالبان کی واپسی کی راہ ہموار کی۔
امریکی صدر اس جنگ کے ضمن میں آ ئے روز اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کردیا ہے، ایران کے ریڈار سسٹم کو تباہ کردیا، ایرانی نیوی اور فضائیہ کو مکمل طور پر ختم کردیا، ایران کی عسکری قوت اور مواصلاتی نظام کو تباہ کردیا، حملہ نہ کرتے تو ایران دو تین ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ایران اب ہمارے ساتھ ڈیل چاہتا ہے۔دوسری جانب وہ نیٹو ممالک سے بھی ناراض ہیںکہ ایران کے خلاف جنگ میں نیٹو ممالک نے کوئی مدد نہیں کی۔مگر جاننے والے جاتے ہیں کہ اس جنگ میں ایران اور ایرانی قوم واقعتاً ایک سیسی پلائی ہوئی دیوار بن چکے ہیں۔
روسی صدر پوٹن کا یہ بیان کافی اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتائج اتنے ہی سنگین ہو سکتے ہیں جتنے کورونا کے تھے کیونکہ کورونا وائرس نے دنیا کے ہر خطے اور ترقی کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ ایران پر مسلط کردہ اسرائیل اور امریکا کی جنگ کے اثرات کی درست پیشگوئی کرنا فی الحال مشکل ہے جنگ میں شامل فریقین خود بھی نہیں جانتے کہ آگے کیا ہو گا۔ خطے میں کشیدگی سے بین الاقوامی لاجسٹکس، پیداوار اور سپلائی چین کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے تیل گیس، دھاتوں اور کھادوں کی تیاری سے وابستہ صنعتیں حملوں کی زد میں ہیں۔ کورونا نے عالمی معیشت کو متاثر کیا تھا اور جنگ بھی سرمایہ کاری بگاڑنے کا باعث بن رہی ہے َ تجارت اور معیشت میں ایسی تبدیلیاں اب نئی حقیقت بنتی جارہی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے حکام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران اس تنازع کو طول دینے کے لیے تیار ہے اور وہ مزاحمت اور طویل جنگ کی تیاری کر چکا ہے۔ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے یہ بھی کہا تھا کہ ’جارحیت‘ کے خلاف ایران کا ردعمل ایک مخصوص وقت تک محدود نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع مہینوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ایرانی وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ ایران دشمن کی توقع سے کئی گنا زیادہ ’جارحانہ دفاع‘ برقرار رکھ سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے جان بوجھ کر اپنے ہتھیاروں کا استعمال مرحلہ وار کیا ہے، تمام صلاحیتوں کو ایک ساتھ استعمال کرنے کے بجائے بعد کے مراحل کے لیے کچھ زیادہ جدید صلاحیتوں کو بچا لیا ہے۔
ایران کی حکمت عملی کیا؟:کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا نقطہ نظر تخریب کاری سے مقابلہ کرنے کی حکمت عملی پر مبنی ہے، جس میں ایرانی افواج اسرائیل کے اہداف اور خطے میں امریکی فوجی مفادات پر میزائلوں اور ڈرونز کے پے در پے حملے کئے گئے۔یہ حملے کئی مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ سب سے پہلے، وہ آنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو فعال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے سسٹمز تکنیکی طور پر بہت ترقی یافتہ ہیں، لیکن وہ بہت مہنگے اور تعداد میں محدود ہیں، اور بہت سے معاملات میں ہر مداخلت کی قیمت تباہ ہونے والے میزائل یا ڈرون سے کہیں زیادہ ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، جنگ میں مصروف امریکی افواج نے صرف آپریشن کے پہلے ہفتے میں ہی تیز رفتاری سے درست ہتھیاروں اور فضائی دفاعی میزائلوں کا استعمال کیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کے اس قدر زیادہ استعمال سے سپلائی چین میں اہم کمزوریاں بھی بے نقاب ہو رہی ہیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ہتھیاروں کے ذخائر زیادہ مستحکم ہیں اور مسلح افواج ’موجودہ رفتار کے ساتھ کم از کم چھ ماہ تک شدید جنگ جاری رکھ سکتی ہیں۔‘کئی کمانڈروں نے یہ بھی کہا کہ میزائل کی تیاری مکمل طور پر مقامی طور پر کی جاتی ہے اور متعدد پیداواری مقامات اور بڑے ذخیرے کے ساتھ، ایران طویل عرصے تک حملے جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی معیشت پر اثرات:ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کے سبب پاکستانی عوام کی اکثریت ہمسایہ ملک ایران کے سیاسی مستقبل سے متعلق تشویش کا شکار ہے جبکہ خلیج فارس کے خطے میں جاری عسکری تصادم پاکستانی معیشت اور دفاع دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان میں پٹرول اور توانائی کی دیگر اقسام کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔ان عوامل کے اقتصادی اثرات اب عام پاکستانیوں اور ان کے گھروں کے باورچی خانوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ فوڈ سپلائی چین کی کارکردگی کا پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل پر براہ راست انحصار ہے۔ اسی لیے ایندھن کی سپلائی میں ذرا سا تعطل بھی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔پاکستان میں عام شہری پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کے باعث زندہ رہنے کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اس لیے یہ جنگ پا کستان کے لیے اقتصادی حوالے سے ایک ڈراﺅنا خواب ثابت ہوئی۔ معاشی اور دفاعی ماہرین دونوں ہی اسرائیل اور امریکہ کے ایران کے ساتھ عسکری تصادم کی موجودہ صورت حال کو پاکستان کے لیے براہ راست خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق اس جنگ سے بالواسطہ متاثر ہونے والا پاکستانی غریب طبقہ تو پہلے ہی شدید معاشی دباﺅ کا شکار تھا۔
توانائی امور کے ماہرین کہتے ہیںکہ پاکستان کے پاس تیل کے محفوظ ذخائر بہت بڑے نہیں اور یہ ملک اپنی تیل کی ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز جیسے راستے پر بھی انحصار کرتا ہے۔ اگر یہ بحری تجارتی راستہ زیادہ عرصے تک جنگ کی زد میں رہا، تو اس سے پاکستان کی آئل سپلائی چین متاثر ہو گی، جس کے نتیجے میں فوڈ سپلائی چین پر پڑنے والے مزید اثرات ملک میں مہنگائی کی بڑی اور نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں۔ایران یہ اعلان کر چکا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور اس بندش کی اس نے پہلے کئی مرتبہ باقاعدہ دھمکی بھی دی تھی۔ یہ ایسا عالمی تجارتی راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کو پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کا تقریباً 25 فیصد حصہ گزرتا ہے، اور خود پاکستان کو بھی اس کی ضروریات کا زیادہ تر ایندھن اسی راستے سے موصول ہوتا ہے۔
پاکستان میں مروجہ قانون کے تحت ملک میں کام کرنے والی تیل کمپنیاں اپنے پاس کم از کم 20 دن تک کے لیے کافی ذخائر محفوظ رکھنے کی پابند ہیں۔ ریگولیٹرز کی طرف سے بار بار کی تنبیہ کے باوجود تیل کے ذخائر کی کمی برقرار رہتی ہے اور یہ بھی بڑی وجہ ہے کہ آئل سپلائی سسٹم میں معمولی سا خلل بھی پاکستان کو فوراً بحران کا شکار بنا دیتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی قیمتوں میں کوئی بھی مستقل اضافہ تیل درآمد کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کے درآمدی اخراجات، بیرونی مالیاتی دباﺅ اور مہنگائی سبھی میں اضافے کا سبب بنے گا۔پاکستان اس تنازعے کا براہ راست حصہ نہ ہونے کے باوجود اپنی معیشت پر اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا اور یہ بات ہمارے مالیاتی نظم و ضبط اور کرنسی کی شرح تبادلہ کے استحکام کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ماہرین کی رائے میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کا جاری رہنا پاکستان کے لیے اس کے اپنے حوالے سے آزمائش کا وقت ہے، اس لیے کہ ایک طرف تو پاکستان کے حریف ہمسایہ ملک بھارت میں کسی نئی مہم جوئی کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے، جس کے لیے اسلام آباد کو تیار رہنا ہے، اور دوسری جانب افغانستان سے ملحقہ سرحد پر بھی سلامتی کے بڑے مسائل کا واضح خطرہ تو ہے ہی۔
کتنا جانی نقصان؟
ایران پرامریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بھاری جانی نقصان ہوا جس کا دائرہ کار متعدد ممالک تک پھیلا ہے۔الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان اور زخمی افراد کا تعلق ہر عمر کے لوگوں سے ہے۔آ ئیں اس چارٹ کے ذریعے جانتے ہیں کہ ان حملوں میں کہاں کتنے لوگ مارے گئے یا زخمی ہوئے۔یہ اعدادو شمار28 فروری سے26مارچ تک کے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حملے: ایرانی حملے
28 فروری تا26 مارچ
لبنان
ہلاکتیں۔ 1094
زخمیوں کی تعداد۔3119
فلسطین ہلاکتیں۔4
شام میں ہلاکتیں۔4
عراق
ہلاکتیں۔89
زخمیوں کی تعداددرجنوں
ایران
ہلاکتیں۔1937
زخمیوں کی تعداد۔24,800
اسرائیل
ہلاکتیں۔19
زخمی کتنے؟۔5226
بحرین
ہلاکتیں۔3
درجنوں زخمی
قطر میں ہلاکتیں۔6
سعودی عرب
ہلاکتیں۔2
زخمیوں کی تعداد۔20
امریکہ
ہلاکتوں کی تعداد۔13فوجی
زخمی:200
عمان
ہلاکتیں۔3
زخمیوں کی تعداد۔15
کویت
ہلاکتیں۔6
درجنوں زخمی
اُردن
زخمی۔ 28
یو اے ای
ہلاکتیں۔11
زخمی۔169
٭٭٭٭