وزیر اعظم کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ ،اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراءاور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی شرکت
اسلام آباد :وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاںہے،افغانستان میں قیام امن سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا،کشمیر کی صورت حال پر عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں ،دہشت گردی کے خاتمے اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے افواج پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں نے ہمیشہ قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنایا ۔پیر کے روز قومی سلامتی و علاقائی امور کے حوالے سے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان نے کی ،اجلاس میں وفاقی وزراءشاہ محمود قریشی ،شیخ رشید ،فواد چودھری ،مشیر قومی سلامتی معید یوسف ،تین مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی ،ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے خطے کی سلامتی کی صورت حال خاص طور پر افغانستان اور افغان امن عمل پر تفصیلی بریفنگ دی اور اس میں پاکستان کے کردار کے ساتھ ساتھ امریکی افواج کے انخلاءسے متعلق ہونے والی پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ اور خارجہ امور پر اجلاس کو اعتماد میں لیا جبکہ شرکاءنے داخلی امور پر بھی مشاورت کی ۔اجلاس کے بعد آرمی چیف ،وزیر اعظم اور وزراءنے الگ سے بھی اہم قومی اور داخلی سلامتی سے متعلق امور پر مشاورت کی اور دوپہر کا کھانا بھی ساتھ کھایا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاںہے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کررہا ہے ،افغان امن عمل کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا اور وہ امید کرتے ہیں کہ فریقین اس حوالے سے اپنی کمٹمنٹ پوری کریں گے ۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد ہونا چاہیے ،وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خاتمے اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے سے متعلق آئی ایس آئی کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ افواج پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں نے ہمیشہ قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دشمن کے نہ صرف تمام عزائم ناکام بنائے بلکہ سلامتی کو بھی یقینی بنایا ۔