قومی خبریں

سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیمی بل کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دےدی

اسلام آباد:سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیمی بل کی تمام 22شقوں کی منظوری دےدی ،بل کی منظوری کےلئے ووٹ دینے والوں میں حکومتی اتحاد کے 58 ووٹوں کےساتھ اپوزیشن پارٹی جمعیت علماءاسلام کے 5 ارکان بھی شامل ہیں،آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے 2 ارکان بھی شامل ہیں
جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایکسٹینشن میں دلچسپی نہیں رکھتے ، اپنی مدت پوری کرکے چلے جائیں گے،سپریم کورٹ میں متعارف کرائے جانے والے آئینی بینچز کا تقرر اور نامزدگی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ہی کرےگا،
مجوزہ بل کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار سینئر ججز پر مشتمل ہوگا،جوڈیشل کمیشن میں دونوں ایوانوں سے حکومت اور اپوزیشن کے 2،2ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہوں گے، آئینی بینچز کی تشکیل کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو ہو گا ۔
چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26آئین ترمیم پر ووٹنگ کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، اس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے ایوان کے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا، مہمانوں کی گیلری خالی کروانے کی ہدایت کی۔اس دوران اپوزیشن نے رانا ثنا ءاللہ اور اٹارنی جنرل کو ایوان سے باہر بھیجنے کا مطالبہ کیا، اس پر سینیٹر اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ یہاں بیٹھنا ان کا آئینی حق ہے۔
سینٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل شروع کردیا گیا جبکہ اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کردیا۔ایوان نے 26ویں آئینی ترمیمی بل کی شق نمبر 2 کی منظوری دے دی جس کے حق میں 65 ارکان نے حق میں ووٹ دیا اور 4 نے مخالفت کی جبکہ آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل جاری رہا اور سینیٹ نے26ویں آئینی ترمیمی بل کی تمام22شقوں کی منظوری دے دی۔