خطے میں امن و استحکام کےلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ،عمران خان
اسلام آباد:پاکستان اور ازبکستان نے دفاع، زراعت،سیاحت ، ثقافت و تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے ،عالمی و علاقائی فورمز پرایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے اورمستقبل میں سیاسی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ،وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے جنوبی ایشیاءکے خطے میں امن و استحکام کےلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ،افغان فریقین کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ جامع مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا سیاسی حل نکالیں،ٹرانس افغان ریلوے لائن منصوبہ کی تکمیل سے پورے خطے کی جغرافیائی معاشی صورتحال بدل جائے گی ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اورازبکستان کے صدر شفقت مرزئیوف کے درمیان پہلا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران دوطرفہ علاقائی اور عالمی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا ۔ فریقین نے پاک ازبکستان تعلقات کی گہرائی کی اہمیت کو اجاگر کیا جن کی جڑیں مشترکہ عقیدے تاریخ اورثقافتی بندھن میں بندھی ہوئی ہیں دونوں رہنماﺅں نے اعلیٰ سطحی تبادلوں اور تعلقات کو مزید بلندی کی طرف لے جانے کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے کے عزم کو بھی دوہرایا دونوں رہنماﺅں نے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لیا جس میں خاص طور پر سیاست ، ثقافت ، سیکیورٹی اور دفاع و تعلیم کے شعبے شامل ہیں انہوں نے مزارت کی زیارت کیلئے سیاحت سمیت لوگوں کے درمیان تعلقات کی مزید حوصلہ افزائی پر اتفاق کیا وزیراعظم عمران خان نے سیاسی و سفارتی تعلقات کو فروغ دینے ،تجارت میں تیزی لانے اور اقتصادی تعاون ،تجارتی معاہدوں کو فوری طورپر حتمی شکل دینے سیکیورٹی و دفاعی تعاون کو بڑھانے اور تعلیم ثقافت و سیاحت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کیلئے اقدامات کی اہمیت کواجاگر کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی معاشی سیکیورٹی صورتحال اور جیو اکنامکس کی طرف توجہ مبذول کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ۔انہوں نے یہ بات زور دے کرکہی کے وسطی ایشیا کا خطہ اس ویژن میں خاص توجہ کا مرکز ہے ،گفتگوکے دوران ٹرانس افغان ریلوے لائن منصوبہ جس پر پاکستان ازبکستان اور افغانستان نے رواں سال کے اوائل میں اتفاق کیا تھا کا بھی جائزہ لیا گیا یہ منصوبہ وسطی ایشیا کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو گوادر کراچی اور قاسم کی پاکستانی بندرگاہوں تک ملانے کی جانب پہلا قدم ہوگا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے پورے خطے کی جغرافیائی معاشی صورتحال بدل جائے گی دونوں رہنماﺅں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اقوام متحدہ او آئی سی ، ایس سی او اور ای سی او سمیت تمام علاقائی و عالمی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کو دوہرایا وزیراعظم عمران خان نے ازبک صدر کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق بھی آگاہ کیا اور پاکستان کے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کے حوالے سے موقف بھی آگاہ کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل خطے کے امن کیلئے ناگزیر ہے وزیراعظم نے افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کیلئے افغان امن عمل میں پاکستان کی کوششوں کوبھی اجاگر کیا انہوں نے کہا کہ افغان فریقین کو وسیع بنیادوں پر اور جامع مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کے حوالے سے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔وزیراعظم نے اسلام فوبیا سے نمٹنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ورچوئل اجلاس کے دوران مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے جس میں زراعت کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے ترقی دینے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے جبکہ چیزوں کی تجزیاتی تصدیق ، سٹینڈرڈائزیشن ، میٹرولوجی و تکنیکی معاونت کے شعبوں میں باہمی اعتراف کے معاہدے پر دستخط کئے گئے دفاعی تعاون بارے مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے ۔ اس موقع پر ازبک صدر نے وزیراعظم عمران خان کوجولائی دو ہزار اکیس میں تاشقند میں ہونے والی اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی وزیراعظم عمران خان نے صدر مرزیﺅف کا شکریہ ادا کیا اورانہیں جلد سے جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی دونوں رہنماﺅں نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ ورچوئل اجلاس کے دوران طے پانے والے امور سے دو طرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا اور دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط ، کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں کردارادا کرے گا مستقبل میں سیاسی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیا اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ کی منظوری بھی دی گئی ۔