باہمت لوگ کیسے ہوتے ہیں؟
تحریر : قاسم علی شاہ……1919 میں ریمونڈ اوریگ نامی ایک تاجر نے بڑا حیرت انگیز اعلان کیا۔اس نے کہا کہ جو بھی شخص نیویارک سے پیرس تک کافاصلہ بغیر ر±کے طے کرلے گا، میں اسے پچیس ہزارڈالر انعام دوں گا۔انعام کی رقم خاصی بڑی تھی، اس چیز نے چند ہوابازوں کو یہ کٹھن سفر کرنے پر آ مادہ کیا،انھوں نے کوشش کی لیکن منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔
طاقت وسائل میں نہیں بلکہ اس یقین میں ہے کہ ہر مشکل کا سامنا کریں گے
چند برس بعد لنڈ برگ نامی ایک جنونی شخص نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ اس کے پاس نہ دولت تھی نہ ہی کوئی ایسا سرپرست جو اس کی معاونت کرتا،لیکن اس کا عزم پختہ تھا۔ اس نے مختلف لوگوں کو قائل کرکے ان سے قرض لیا اور ایک سادہ مگر مضبوط جہاز تیار کروایا، جس کا نام اس نے ”اسپرٹ آ ف سینٹ لوئس“رکھا۔20 مئی 1927 کادن ا س کی زندگی کاخطرناک ترین دن تھا، وہ موت کے سفر پر روانہ ہونے والاتھا۔جب وہ جہاز میں بیٹھا تو زمین بارش کے باعث کیچڑ سے بھری ہوئی تھی۔ جہاز ایندھن سے لداتھا اور اڑان لینا انتہائی مشکل تھا۔ چند لمحوں کے لیے یوں لگا جیسے جہاز زمین چھوڑنے سے انکار کر دے گا، مگر لنڈبرگ نے ہمت نہ ہاری۔ آ خرکار جہاز فضا میں بلند ہو گیا۔ اس کے سامنے ہزاروں کلومیٹر کا سمندر تھا، ریڈیو، جدید آ لات، ساتھی،کچھ بھی نہیں تھا۔پرواز کے دوران سب سے زیادہ سخت مقابلہ اسے نیند کے ساتھ کرناپڑا،وہ مسلسل تینتیس گھنٹوں تک جاگتا رہا، کئی بار اس کی آ نکھیں بند ہونے لگتیں، کبھی جہاز بادلوں میں گم ہوجاتاتوکبھی سمندر کی خطرناک سطح کے قریب آ جاتا۔ایک لمحہ بھی اگر اس کاحوصلہ جواب دے جاتا توانجام انتہائی خطرناک ہوتا،مگر وہ ناممکن حالات سے مسلسل لڑتا رہا،بال آ خر 33 گھنٹے اور 30 منٹ کی طویل مسافت طے کرنے کے بعدوہ پیرس کے لی بورجے ہوائی اڈے پر اترا۔اس نے ایسی تاریخ رقم کردی تھی جس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی تھی۔ یہ اپنے وقت کا حیرت انگیز اور ناممکن کارنامہ تھاجسے لنڈ برگ نے اپنے پختہ ارادے سے ممکن کردکھایاتھا۔لنڈبرگ نے اس کامیابی سے دراصل یہ ثابت کیاکہ طاقت وسائل میں نہیں بلکہ اس یقین میں ہے کہ حالات جس قدر بھی مشکل ہوں میں ان کا سامناکرسکتاہوں اور میرے سامنے بحراوقیانوس ہی کیوں نہ ہو،میں اپنے پختہ عزم اور اعتماد کی بدولت اسے بھی عبور کرسکتاہوں۔
اس کائنات میں موجود ہر انسان خاص ہے۔تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی قابلیت سے نوازرکھاہے۔وہ اگر ہمت سے کام لے تواس قابلیت کی بدولت منفردکارنامے سرانجام دے سکتاہے۔ زندگی میں ہر انسان مختلف حالات کاسامنا کرتاہے،یہ حالات کبھی کبھار انسان کو بے بس کردیتے ہیں ، وہ مایوس اور پریشان ہوجاتاہے اور ہمت ہارکر بیٹھ جاتاہے جب کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جومضبوط عزم کی بدولت ہر طرح کے حالات سے سرخرو ہوکر نکلتے ہیں۔
اس تحریر میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ باہمت لوگوں کی وہ کون سی صفات ہوتی ہیں جو انھیں عام لوگوں سے ممتاز بنادیتی ہیں او ر وہ معاشرے میں شاند ار تبدیلی لے کر آ تے ہیں۔اسی طرح کمزورلوگوں کی وہ کون سی خامیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی میں بڑا کام نہیں کرپاتے۔
(1)یقین:کمزور ہمت لوگ ہمیشہ اس یقین کے قیدی ہوتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔انھیں ہمیشہ ہارنے کااندیشہ ہوتاہے۔ناکام ہونے ، گرجانے اور ہدف پر نہ پہنچنے کا خوف۔انھیں دوسروں کی رائے سے بھی خوف آ تاہے۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔ناپسندیدگی سے ان کی جان جاتی ہے۔لوگ ایسا نہ کہہ دیں ، ویسا نہ کہہ دیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔یہ اور اس طرح کے بے شمارخیالات نے انھیں اپنا قیدی بنایاہوتاہے اور اس وجہ سے یہ کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکتے۔اس کے برعکس باہمت لوگ ہمیشہ پ±رامیدرہتے ہیں۔وہ آ زاد ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کچھ کرنے کی جستجومیں ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ مثبت اورامیدافزاگفتگو کرتے ہیں کیوں کہ انھیں معلو م ہوتاہے کہ وہ جوبھی بولتے ہیں ،وہ الفاظ خیالات کا روپ دھارلیتے ہیں اورپھر اسی طرح کے واقعات ان کی زندگی میں رونما ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ”میں نہیں کرسکتا“ ان کی زندگی میں نہیں ہوتا۔ان کے سامنے مشکل سے مشکل ہدف کیوں نہ ہو، اس کوحاصل کرنے کے لیے وہ سوچتے ہیں ، راستے بدل کر دیکھتے ہیں اور نئے امکانات کا جائزہ لے کراس کی طرف بڑھتے ہیں اور ایک نہ ایک دن اس کو کامیابی سے حاصل کرلیتے ہیں۔
(2)بہانے نہیں کارکردگی:کمزور ہمت لوگ ہمیشہ آ پ کو یہ کہتے نظر آ ئیں گے کہ بارش ہوگئی ورنہ میں نے آ جاناتھا۔گھر میں مہمان آ گئے ورنہ میں نے یہ کام ختم کرکے اٹھناتھا۔میری بائیک کاٹائر پنکچر ہوگیا ورنہ میں ضرور سیمینار میں پہنچتا۔الغرض وہ اپنی ہر ناکامی کاالزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ہاں مجھ سے غلطی ہوگئی،یہ میری ہی کمزوری تھی جس کی وجہ سے فلاں کام نہیں ہوسکا۔بہانہ بنانے اور اپنی ناکامی کاکوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈنے کی یہ عادت انھیں زندگی میں کچھ بڑاکرنے نہیں دیتی اور یہ لوگ ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔مضبوط ہمت والے لوگوں کے سامنے رکاوٹ کوئی چیز نہیں ہوتی۔وہ ہمیشہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔اگر ان کے سامنے ایک راستہ بند ہوجائے تو وہ مایوس ہوکر بیٹھ نہیں جاتے بلکہ دوسراراستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔عین وقت پر اگران کی منصوبہ بندی میں کوئی مسئلہ آ جائے تو وہ فوراً سے متباد ل ڈھونڈتے ہیں اور کام کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔بارش ، طوفان ، ٹائر پنکچرہونا یا پھر کوئی بھی مسئلہ ہو ، وہ اس کو الزام نہیں دیتے اور نہ ہی اپنی ناکامی کودوسروں کے سرتھوپتے ہیں۔ ہمیشہ اچھے نتائج دیتے ہیں او ر ان کی یہ عادت انھیں اس دنیا کے لیے کار آ مد بناتی ہے جس کی وجہ سے وہ کامیاب انسان ٹھہرتے ہیں۔
(3)ماضی کابوجھ:کمزور ہمت لوگ آ پ کو ہمیشہ ماضی میں گم نظر آ ئیں گے۔انھوں نے اپنے کندھوں پرماضی کا ایک بڑابوجھ اٹھایاہوتاہے جو ان کی کمر کو جھکادیتاہے اور اسی وجہ سے زندگی کی شاہراہ پر ان کی رفتار انتہائی کم ہوتی ہے۔اس بے مقصدکام میں وہ بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ان کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اورپھر زندگی کے مفید کاموں کے لیے بھی ان کے پاس توانائی نہیں بچتی۔ماضی میں رہنے والاانسان پچھتاﺅں میں گھرجاتاہے۔ایک ایک یاد ا±س کے سامنے آ تی ہے اور اس کو مایوس و پریشان کرتی ہے۔اسی وجہ سے ایسے شخص کی ذہنی حالت بھی نارمل نہیں رہتی۔وہ ناشکرااورناامید بن جاتاہے اور یہ چیز اس کو زندگی میں آ گے نہیں بڑھنے دیتی۔
باہمت لوگ ہمیشہ ایک روشن مستقبل دیکھتے ہیں۔یہ عادت ان کی ہمت کومزید مضبوطی دیتی ہے۔وہ بہترین منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ان کو عملی وجود میں لانے کے لیے اپنی پوری توانائیاں صرف کرتے ہیں۔و ہ امکانات پرنظر رکھتے ہیں۔ان کے سامنے مشکل حالات بھی اگر آ جائیں تووہ پ±رامید ہوتے ہیں۔وہ مستقبل کے اندیشوں کو ذہن میں نہیں لاتے بلکہ صرف روشن اور مثبت پہلوپر نظر رکھتے ہیں اور اسی یقین کے ساتھ وہ ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں۔
(4)بے مقصد مصروفیت:کمزورلوگ آ پ کو مصروف نظر آ ئیں گے۔وہ ہروقت کوئی نہ کوئی کام کررہے ہوں گے۔و ہ ایسا ظاہر کرتے ہیں گویا اس ساری دنیا میں ا ن سے بڑھ کر کوئی مصروف ہے ہی نہیں لیکن ان کی یہ ساری سرگرمیاں بے نتیجہ ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنی ترجیحات مقرر کرکے کام نہیں کرتے۔بس جو بھی ان کا دل چاہتاہے اس کو کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ان کے سامنے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔پلاننگ کے اس فقدان کی وجہ سے وہ اپنی ساری توانائیاں لگادیتے ہیں لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہوتاہے۔
باہمت لوگ مفید اور پروڈکٹیوہوتے ہیں۔وہ اپنے لیے ترجیحات مقرر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون سی چیز ان کے لیے اس وقت اہم ہے اور کون سی نہیں۔ وہ اپنی ذہنی توانائی ،جسمانی طاقت ، بیرونی وسائل اوروقت کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور کسی بھی مصروفیت سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ یہ کام واقعی اہم ہے یا نہیں۔وہ ان چاروں عوامل کو بہترین انداز میں کام میں لاتے ہیں اور معاشرے کے لیے نفع مند انسان بنتے ہیں۔
(5)دنیا سے مانگنے والے :کمزور ہمت لوگ آ پ کو ہمیشہ دنیا سے مانگتے ہوئے نظر آ ئیں گے۔وہ جب بھی انسانوں کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو یہ سوچتے ہیں کہ مجھے اس سے کیا ملے گا۔یہ لوگ دراصل اپنی ذات کے قیدی ہوتے ہیں۔یہ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔میری ذات ،میری تنخواہ ، میرا گھر اور میری گاڑی۔ اس کے علاوہ یہ سوچتے ہی نہیں۔اپنی ذات کی یہ سوچ انھیں خود غرض بنادیتی ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں ترقی کے مواقع کم ہوناشروع ہوجاتے ہیں اور وہ ایک ہی جگہ پر کھڑے رہ جاتے ہیں۔
باہمت لوگ ہمیشہ دنیا کودینے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے پاس جو بھی کچھ ہوتاہے وہ بانٹتے ہیں کیوں کہ وہ اس راز سے واقف ہوچکے ہوتے ہیں کہ بانٹنے سے بڑھتاہے۔وہ معاشرے اور قوم کے لیے سوچتے ہیں اور اس بات کی کوشش میں ہوتے ہیں کہ کیسے اپنی محنت و کوشش سے معاشرے میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔یہ لوگ مانگتے نہیں بلکہ دوسروں کو عطاکرتے ہیں۔یہ عادت ان کے دل اور ظرف کو بڑاکردیتی ہے اور اسی وجہ سے ان کی زندگی میں نئے لوگ ، نئے امکانات اور نئے مواقع آ ناشروع ہوجاتے ہیں جن کی بدولت یہ بہت جلد ترقی کی معراج پر پہنچ جاتے ہیں۔
ایک دانا کا قول ہے کہ وسائل کی کمی خوابوں کی موت نہیں ہوتی بلکہ ہمت کی کمی خوابوں کو ماردیتی ہے۔
یادرکھیں، بڑے خواب آ سان راستوں سے پورے نہیں ہوتے بلکہ وہی لوگ اپنے خوا ب پورے کرسکتے ہیں جن میں خطرہ مول لینے کاحوصلہ ہو،جب آ پ اپنی ذات پر اعتماد رکھیں گے توناموافق حالات میں بھی آ پ کے لیے راستے بن جائیں گے۔کامیابی ایک لمحے میں نہیں ملتی، یہ برسوں کی محنت، ناکامیوں سے سیکھنے ، مستقل مزاجی اپنانے اور خود کومسلسل بہتر کرنے سے ملتی ہے۔اگرمقصد واضح اور نیت مضبوط ہوتو مشکلات انسان کو کمزور کرنے کے بجائے اسے نکھاردیتی ہیں۔ہرانسان اپنی زندگی کے بحراوقیانوس سے گزرتاہے، فرق صرف یہ ہے کہ جن کے ارادے کمزور ہوتے ہیں وہ اس میں ڈوب جاتے ہیں لیکن یقین کی طاقت سے مالامال ہوں وہی تاریخ کے افق پر ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔
بہادر، کمزور: فرق کیا؟
بہادر لوگوں میں چند ایسی صفات ہوتی ہیں جو انھیں عام لوگوں سے ممتاز بنادیتی ہیں او ر وہ معاشرے میں تبدیلی لے کر آ تے ہیں، اسی طرح کمزورلوگو ں میں کچھ خامیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی میں بڑا کام نہیں کرپاتے۔ آ ئیں دونوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔
(1)یقین:
کمزور ہمت لوگ ہمیشہ اس یقین کے قیدی ہوتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔انھیں ہمیشہ ہارنے کااندیشہ ہوتاہے۔ناکام ہونے ، گرجانے اور ہدف پر نہ پہنچنے کا خوف۔انھیں دوسروں کی رائے سے بھی خوف آ تاہے۔اس کے برعکس باہمت لوگ ہمیشہ پ±رامیدرہتے ہیں۔وہ آ زاد ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ”میں نہیں کرسکتا“ ان کی زندگی میں نہیں ہوتا۔
(2)بہانے نہیں کارکردگی:
کمزور ہمت لوگ ہمیشہ آ پ کو یہ کہتے نظر آ ئیں گے کہ بارش ہوگئی ورنہ میں نے آ جاناتھا۔گھر میں مہمان آ گئے ورنہ میں نے یہ کام ختم کرکے اٹھناتھا۔بہانہ بنانے کی یہ عادت انھیں زندگی میں کچھ بڑاکرنے نہیں دیتی۔مضبوط ہمت والے لوگوں کے سامنے ایک راستہ بند ہوجائے تو وہ مایوس ہوکر بیٹھ نہیں جاتے بلکہ دوسراراستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(3)ماضی کابوجھ:
کمزور ہمت شخص آ پ کو ہمیشہ ماضی میں گم نظر آ ئے گا۔اسی وجہ سے اس کی ذہنی حالت بھی نارمل نہیں رہتی۔وہ ناشکرااورناامید بن جاتاہے اور یہ چیز اس کو زندگی میں آ گے نہیں بڑھنے دیتی۔باہمت لوگ ہمیشہ ایک روشن مستقبل دیکھتے ہیں۔وہ بہترین منصوبہ بندی کرتے ہیں اورامکانات پرنظر رکھتے ہیں۔
(4)بے مقصد مصروفیت:
کمزورلوگ ایسا ظاہر کرتے ہیں گویا اس دنیا میں ا ن سے بڑھ کر کوئی مصروف ہے ہی نہیں لیکن ان کی یہ ساری سرگرمیاں بے نتیجہ ہوتی ہیں۔ وہ اپنی ترجیحات مقرر کرکے کام نہیں کرتے۔باہمت لوگ اپنی ذہنی توانائی ،جسمانی طاقت ، بیرونی وسائل اوروقت کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور ہمیشہ سوچتے ہیں کہ یہ کام میرے لیے اہم ہے یا نہیں۔
(5)دنیا سے مانگنے والے :
کمزور ہمت لوگ آ پ کو ہمیشہ دنیا سے مانگتے ہوئے نظر آ ئیں گے۔وہ جب بھی انسانوں کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو یہ سوچتے ہیں کہ مجھے اس سے کیا ملے گا جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں ترقی کے مواقع کم ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔باہمت لوگ مانگتے نہیں بلکہ دوسروں کو عطاکرتے ہیں۔یہ عادت ان کو ترقی کی معراج پر پہنچادیتی ہے۔