پرنٹ میڈیا کی تباہی کاباعث بننے والے اقدامات سے گریز کیا جائے،ایکشن کمیٹی
کوئٹہ:ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کا علامتی احتجاجی کیمپ 54 ویں روز بھی جاری رہا۔علامتی احتجاجی کیمپ میں اخبارات۔جرائد اور اخبار مارکیٹ کے نمائندگان موجود رہے۔
احتجاجی کیمپ کے شرکاءکا کہنا تھا کہ ہمارا روز اول سے ہی موقف واضح ہے کہ پرنٹ میڈیا کو تباہی سے بچایا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے صوبے کی واحد صنعت تباہی سے دوچار ہو۔
بلوچستان کے میڈیا ورکرز ڈاﺅن سائزنگ کی وجہ سے بیروزگار ہوچکے ہیں جبکہ ایکشن کمیٹی اخباری صنعت کی بقاءکیلئے سراپا احتجاج ہے۔

شرکاءکا کہنا تھا کہ اشتہارات کو BPPRA پرمکمل طور منتقل کرنے سے بلوچستان کے صحافی اور میڈیا ورکرز معاشی بحرانوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو وہ وسائل میسر نہیں جن سے دیگر صوبوں کے اخبارات و جرائد مستفید ہوتے ہیں۔
بلوچستان سے شائع ہونیوالے اخبارات کو بھی صوبے کے خصوصی تشہیری اشتہارات میں اولیت دی جانی چاہئے ۔شرکاءکا مزید کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبے کے وسیع تر مفاد میں اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کے ڈرافٹ کو مسترد کریں گے اور بلوچستان کے حقیقی پرنٹ میڈیا کی سرپرستی کریں گے۔
شرکاءنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کی بقاءکی جنگ سے کسی صورت دستبردار نہیںہونگے۔