قومی خبریں

لیاقت بلوچ کا آئی پی پیز کے معاہدوں کی تمام تفصیلات جاری کرنے کا اعلان

راولپنڈی:جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے آئی پی پیز کے معاہدوں کی تمام تفصیلات جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے دھرنے کے مطالبات عوام کے دل کی آواز ہے، پٹرول کی قیمت میں معمولی قیمت لوگوں کے لئے کوئی سہولت نہیں ،عوام مخصوص طبقے سے پریشان ہو چکی ہے، یہ طبقہ اپنی عیاشی کو ترک کر دے ‘اگر مخصوص طبقے نے عیاشی کو ترک نہ کیا تو عوام کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے‘آئی پی پیز نے ملک کو اپنے شکجے میں لے رکھا ہے، ان پر نظر ثانی کی جائے ۔اتوار کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کو بحران سے نکالنے لئے لیے ہمارا دھرنا کامیابی سے جاری ہے ،جماعت اسلامی نے کراچی میں گورنر ہاوس کے باہر دھرنا دے رکھا ہے ،جماعت اسلامی کا دھرنا قومی دھرنے کی شکل اختیار کر چکا ہے ،تاجر، صنعت کار، تنخواہ دار طبقہ اور خواتین ہمارے دھرنے سے جڑ گئے ہیں ،ہمارے دھرنے سے عوام میں امید اور خوشحال مستقبل کا احساس پیدا ہوا ،پاکستان آئینی اور پارلیمانی بحران سے دو چار ہے، حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے ،پارلیمنٹ میں سیٹوں کو بلڈوز کر کے میڈیا پر بیٹھ کر حکمرانی کی جارہی ہے ،آئین کو پامال کیا جارہا ہے، قومی معیشت سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ،پاکستان کے مقاصد کو ختم کر دیا گیا، ہمارے کارکنان ملی جذبے سے دھرنے میں شریک ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہمارے دھرنے کے مطالبات عوام کے دل کی آواز ہے، پٹرول کی قیمت میں معمولی قیمت لوگوں کے لئے کوئی سہولت نہیں ،پینشنر پر ٹیکس لگا دیا گیا، محنت کش ملازمین شدید پریشان ہیں ،عوام پر لگائے گئے ٹیکسسز سے ملک کا پہیہ نہیں چل رہا ،جاگیرداروں پر ٹیکس عائد نہیں کیئے گئے ان سے فوری ٹیکس وصول ہونے چاہئے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام مخصوص طبقے سے پریشان ہو چکی ہے، یہ طبقہ اپنی عیاشی کو ترک کر دے ،اگر مخصوص طبقے نے عیاشی کو ترک نہ کیا تو عوام کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے،آئی پی پیز نے ملک کو اپنے شکجے میں لے رکھا ہے، ان پر نظر ثانی کی جائے ،آئی پی پیز کے معاہدوں کو فوری ختم کیا جائے، مذاکرات ہماری خواہش نہیں ،حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی ہم نے نے مطالبات سامنے رکھے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مطالبات درست ہیں ،حکومت اگر اقدامات کرے تو اس میں سے کوئی راستہ نکل سکتا ہے ،وزیراعظم عام آدمی کے دکھ کو محسوس کرے، ہمیں اپنے وسائل پر اعتماد کرنا ہو گا ،وزیراعظم خاموش رہے ہیں، اب بولے ہیں تو عوامی مسائل پر سیاست کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ان مسائل کے حل اور مطالبات کی منظوری سے بھاگنا چاہتے ہیں ،ہم ان کی منفی اور جھوٹی سیاست سے عوام کو دور رکھیں گے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے کہا سی پیک منصوبے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے ،جماعت اسلامی کا چین کے ساتھ ایک سی پیک سے متعلق ایک معاہدہ ہے ،ہم نے آل پارٹی کانفرنس میں شرکت کر کے سی پیک کی حمایت کی تھی ،سی پیک کو نقصان پہنچانے کا زریعہ خود حکومت بن رہی ہے ،حکومت روایتی چال بازی سے کام لے رہی ہے، وزراءنے معاہدوں کی منسوخی پر اتفاق کر لیا تھا ،حکومت چاہتی ہے کہ ڈسکوز کی نجکاری کے حوالے سے ان کا ساتھ دے ،ہم نے حکومت کو جواب دیا ہم آپ کے کسی غلط کام کا حصہ نہیں بن سکتے۔نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہمارا کام ہے کہ حکومت کو غلط اقدامات سے روکیں ،حکومت آئی پی پیز کے معاہدوں پر فوری نظر ثانی کرے ،حکومت کسی کے پیچھے چھپ کر ہمارے مطالبات سے فرار نہیں ہو سکتی ،آئی پی پیز کے ساتھ کتنی بجلی کے پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا ،دوسری شق میں ہے کہ معاہدوں کی قیمت پاکستانی روپے میں نہیں ہو گی ،حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ سالانہ معاہدے کیئے،بجلی کی چوری کی قیمت عام آدمی پر پڑتی ہے،حکومتی عہدے دار مفت بجلی استعمال کرتے ہیں اور معاہدوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ،آئی پی پیز کے معاہدوں کی تمام تفصیلات آج ہم جاری کریں گے ،آئی پی پیز سے متعلق اڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ آج ہم جاری کریں گے ،2013 سے 2018 کے درمیان میں بجلی کیپسٹی چارج میں اضافہ ہوا ،حکومت نے بجلی کھپت کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیئے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ واپڈا چیئرمین نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی ہونی چاہتے ‘دنیا میں ہونے والے معاہدوں میں نظر ثانی ہوتی ہے‘آئی پی پیز کے معاہدے عوام کے لیے پھندہ بن چکے ہیں،آئی پی پیز معاہدوں 52 فیصد ہمارے حکومت کی ملکیت ہے ‘حکومت ان ظالمانہ ٹیکسز کا خاتمہ کر سکتی ہے 1199 ارب روپے ان معاہدوں کی مد میں ادا کیئے ان معاہدوں کے تحت 1 یونٹ بجلی پیدا نہیں ہوئی لیکن 40 ارب کی ادائیگی ہوئی ایک پاور پلانٹ کی قیمت 50 ارب ہے اور 41 پاور پلانٹ کی قیمت 2150 ارب روپے بنتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارا دھرنا جاری ہے، حکومت کی صفوں میں ہلچل مچ چکی ہے ،لاہور میں بھی دھرنے کا آغاز کیا جائے گا، کارکنان گورنر ہاوس اور وزیراعلی ہاوس کے سامنے دھرنا دیں گے ،ہماری منزل لیاقت باغ نہیں ہے اور نہ ہم یہاں بیٹھنے آئے ہیں ،حکومت کو موقع دے رہے رہیں ورنہ ہمیں اپنی منزل کا بھی پتہ ہے ،حکمران ملک کو فساد اور انارکی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ،ہم حکومت کو سمجھا رہے ہیں اور بار بار سمجھا رہے ہیں کہ عوام کو ریلیف دیں۔