اسرائیلی دہشتگری،فضائی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 109 ہوگئی اشیاءملبے کا ڈھیر بن گئی
غزہ:فلسطین میں گزشتہ کئی روز سے اسرائیلی حملے جاری ہیں ۔اسرائیلی فوج کے غزہ پر تازہ حملے میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔اسرائیل کی فوج نے غزہ میں زمینی دستے بھیج کر حملہ کرنے کے اپنے ہی بیان کو دو گھنٹے بعد واپس لے لیا۔ زمینی حملے کی تردید کردی۔غزہ کے شمال مشرقی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے پیش نظر شہریوں نے نقل مکانی کی۔اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 109 ہوگئی ہے، شہداءمیں 28 بچے اور 15 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 621 افراد زخمی ہیں۔ ہزاروں فلسطینیوں کے اشیاءملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اسرائیل کی فوج نے غزہ میں زمینی دستے بھیج کر حملہ کرنے کے اپنے ہی بیان کو دو گھنٹے بعد واپس لے لیا۔ زمینی حملے کی تردید کردی۔غزہ کے شمال مشرقی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے پیش نظر شہریوں نے نقل مکانی کی۔اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 109 ہوگئی ہے، شہداءمیں 28 بچے اور 15 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 621 افراد زخمی ہیں۔ ہزاروں فلسطینیوں کے اشیاءملبے کا ڈھیر بن چکے ہیںالجزیرہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں 6 منزلہ عمارت سمیت رہائشی عمارتوں پر بھی میزائل حملے کیے۔ جمعرات کی صبح جب فلسطینی شہری نماز عید کی ادائیگی کے لیے گھروں سے روانہ ہوئے تو آسمان پر صہیونی جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی دی اور سفاک دہشت گردوں نے نہتے لوگوں کو اپنے میزائلز کے نشانے پر رکھ لیا۔غزہ میں فلسطینی ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ شب حملوں میں زہریلی گیس بھی استعمال کیے جانے کا شبہ ہے، شہدا کے جسد خاکی سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جن کا معائنہ جاری ہے۔ اس کے باوجود آہوں اور سسکیوں میں سیکڑوں فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نماز عید ادا کی۔ادھر حماس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے جس کے نتیجے میں 6 یہودی ہلاک ہوگئے۔ اسرائیل کے اندر بھی مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان شدید کشیدگی ہے اور جگہ جگہ جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد قابض فورسز نے کریک ڈاو¿ن کرتے ہوئے 374 فلسطینی مسلمانوں کو گرفتار کرلیا جبکہ جھڑپوں میں درجنوں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے ملک میں فلسطینی مظاہرین کو کچلنے کے لیے پولیس کی مدد کےلیے فوج طلب کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ نتن یاہو نے غزہ کی سرحد پر اسرائیلی افواج کو جمع کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے جس کے باعث غزہ میں ایک بار پھر اسرائیلی فوجی حملے اور بڑے پیمانے پر خونریزی کا خطرہ ہے۔