قومی خبریں

پاکستان افغان مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل چاہتا ہے ،عمران خان

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغان مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل چاہتا ہے ،جنوبی ایشیاءکے خطے میں امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ناگزیر ہے،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو خارجہ پالیسی میں ترجیحی دیتا ہے ، پاکستان سٹریم (نارتھ ساﺅتھ) ،گیس پائپ لائن منصوبے کے لئے قانونی عمل کو نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے بدھ کویہاں وزیر اعظم سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں پاک روس دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیر اعظم عمران خان نے جون 2019 میں بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو نئی سطح تک پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا وزیر اعظم نے اس موقف کو دوہرایا کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہم خارجہ پالیسی میں ترجیحی کے طور پر اہمیت دیتا ہے انہوں نے دو طرفہ تعلقات میں آہستہ آہستہ پیش رفت بشمور تجارت ،توانائی ،سکیورٹی و دفاع سمیت تعاون میں گہرے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم نے پاکستان کی جانب سے پاکستان سٹریم (نارتھ ساﺅتھ) ،گیس پائپ لائن منصوبے کے لئے قانونی عمل کو نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچانے کیلئے عزم کو دوہرایا تا کہ جلد از جلد منصوبے پر کام شروع کیا جا سکے ،ملاقات میں توانائی ،صنعتی جدت ریلوےز اور ہوائی بازی کی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس رواں سال کے آخر میں ماسکو میں ہونے جارہا ہے جہاں تجاویز اور اس حوالے سے منصوبہ جات پر غور کیا جائیگا ،ملاقات کے دوران کورونا وائرس وباءکی وجہ سے درپیش صحت اور اقتصادی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیرا عظم نے سپوتنک فائیک ویکسین کی تیاری پر روس کو مبارکباد پیش کی اور اس حوالے سے پاکستان کی طرف سے ویکسین کے حصول کے منصوبوں سے انہیں آگاہ کیا ،علاقائی تناظر میں وزیر اعظم نے افغان مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی طور پر حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور افغان عمل امن کے فروغ کے لئے روسی کی کوششوں کو سراہا جس میں ماسکو میں حالیہ توسیع شدہ سہ فریقی اجلاس کی میزبانی بھی شامل ہے ۔وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا حوالہ سے دیتے ہوئے پاکستان کے موقف کودہرایا کہ جنوبی ایشیاءمیں امن وسلامتی کے لئے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ناگزیر ہے ۔ملاقات میں مغربی ایشیاء،خلیج ،مشرق وسطی اور ایشیاءبحر الکاہل ،خطے کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر اعظم نے روسی صدر پیوٹن کو دورہ پاکستان کی دوبارہ دعوت بھی دی ہے۔