قومی خبریں

اربوں روپے کی کرپشن کا عمران خان خود اعتراف کر چکے ہیں: عطاءتارڑ

اسلام آباد : وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاءتارڑ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے ،سپریم کورٹ اینڈ پروسیجر ایکٹ بل کو قانونی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی روک لیا گیا،آئینی حدود میں رہ کر معاملے کو آگے چلانا چاہیے تھا،معاملہ اختیارات سے تجاوز کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ہم سمجھتے ہیں یہ غیر آئینی ہے جبکہ ملک احمدخان کا کہنا ہے کہ از خود نوٹس پر قدغن نہیں لگائی جا رہی ،سپریم کورٹ کے کوڈ آف کنڈیکٹ کی پابندی ہونی چاہیے،عمران خان عدالتوں پر چڑھائی کریں تو کیا انہیں معاف ہے؟ ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔عطا تارڑ کا اس موقع پر کہناتھا کہ سپریم کورٹ اینڈ پروسیجر ایکٹ بل واحد کیس ہے جو نافذ العمل نہیں ہوا تھا اسے قانون بننے سے پہلے ہی روک دیا گیا ۔قانون بنا ہی نہ ہو اور اسکے اطلاق کو روک دیا جائے تو ہم سمجھتے ہیں یہ غیر آئینی ہے ۔ بینچ کی تشکیل منصفانہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا سپریم کورٹ میں جو سماعت ہوئی ۔ایسا قانون جو ابھی رائج نہیں ہوا تھا ۔اس کے اطلاق کو پہلے کی روک دیا گیا ۔یہ پارلیمان کے اختیارات پر سوالیہ نشان ہے ۔پارلیمان کا کام ہی قانون سازی ہے ۔قانون بننے سے پہلے کی اس کے اطلاق کو دوک دیا جائے تو یہ غیر آئینی ہے ۔آئین کی حدود کے اندر رہ کر کارروائی ہونی چاہئیے ۔اج عدالت میں کچھ اعتراضات اٹھائے گئے جنہیں ہم جلد جمع کروایا جائے گا ۔ کیا چیف جسٹس کا اس کیس کو خود سننا مناسب ہے ۔انصاف ہوتا نظر آنا چاہئیے ۔چیف جسٹس کو کیس سے خود علیحدگی اختیار کر لینی چاہئیے ۔لاہور میں بھی اج جو کچھ ہوا پرویز الہی صاحب کی ضمانت کی ذمے داری ان کے اپنے جج کے سامنے ہی پیش کر دیا گیا ۔اس سے زیادہ نا انصافی کیا ہو گی اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان کا کہناتھا انصاف کا قتل ہو رہا ہو تو آواز اٹھانا جائز ہے،از خود نوٹس پر قدغن نہیں لگائی جا رہی۔ انہوں نے کہا عمران خان کو مقدمات میں ریلیف مل رہا ہے،کینسر کے علاج کے چندے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،عمران خان خود اعتراف کر چکے ہیں کہ پیسے سیاست کیلئے استعمال کیے گئے۔ ان ججز کے سامنے کیسز ا رہے جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے ۔اربوں روپے کی کرپشن کا عمران خان خود اعتراف کر چکے ہیں ۔لیکن ان کی کرپشن کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ میں بھی اتنا بڑا بنچ پارلیمان کی کی گئی قانون سازی پر بٹھا دیا گیا ۔ عمران اور ان کی پارٹی کو کورٹس میں بہت بڑا ریلیف دیا جا رہا ہے ۔اور یہ سب سے بڑی زیادتی ہے کہ ججز سب کچھ دیکھ رہے ہیں لیکن کوئی انصاف نہیں کر رہا۔اینٹی کرپشن کی جو تحقیقات پرویز الہی کی ہونی چاہئیے تھی عدالتوں میں ان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔پنجاب میں بے تحاشہ خرد برد کی گئی ۔اگر ان کے خلاف کوئی کیس کرتے ہیں تو یہ عدالتوں سے سٹے لے لیتے ہیں ۔ان تمام چیزوں نے ہمیں کہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔ کیوں ہم عمران کے کہنے پر اپنی حکومت کو توڑیں ۔عدالتی زیادتی پر ہم سب کے سامنے آواز اٹھا رہے ہیں ۔ثاقب نثار کے بیٹے نے جو کچھ کیا،اس کے بعد بھی کیا کچھ ابہام باقی رہ گیا ہے ۔حالات جس طرف جا رہے ہیں ان کا کوئی حال نہیں۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمران خان دہشت گردی کریں تو کیا انہیں معاف ہے؟ وہ پولیس وین پر حملہ کریں تو معاف ہے،چیئرمین پی ٹی آئی عدالتوں پر چڑھائی کریں تو کیا انہیں معاف ہے؟ عمران خان نے ایک اسٹے پر کرپشن کیسز کی تحقیقات کو رکوایا۔ملک احمد خان کا کہناتھا کہ پنجاب میں پرویز الٰہی اور ان کی کابینہ نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کئے،عدالتی اصلاحات بل میں از خود نوٹس پر کوئی قدغن نہیں لگائی،یہ بل آئین میں ترمیم نہیں ہے،سپریم کورٹ کے کوڈ آف کنڈیکٹ کی پابندی ہونی چاہیے۔