قومی خبریں

امکان ہے نگراں وزیراعظم سینئر سیاستدان ہو گا،نو مئی سانحے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو قیمت چکانا ہو گی،خواجہ آصف

اسلام آباد :وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طے ہو چکا ہے الیکشن تین ماہ کے اندر ہونے چاہئیں، امکان ہے نگراں وزیراعظم سینئر سیاستدان ہو گا،نو مئی کے سانحے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو قیمت چکانا ہو گی،میری رائے میں آئندہ وزیراعظم نواز شریف ہوں گے،نواز شریف کے نام پر کوئی کاٹ نہیں تھا،پی ٹی آئی سے لوگ ان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ٹوٹے ہیں ،پی ٹی ئی کے جن لوگوں پر مقدمہ ہے ان کا الیکشن لڑنا مشکل ہو سکتا ہے ۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا بہت سے لوگ جون لیگ کے نہیں بھی ہیں وہ کہتے ہیں نواز شریف سے نا انصافی ہوئی ہے۔کوشش اور خواہش ہے جو نواز شریف کے ساتھ نا انصافی ہوئی اس کی تلافی ہو۔میری رائے میں آئندہ وزیراعظم نواز شریف ہوں گے۔چاہتا ہوں نواز شریف واپس آجائیں، عدلیہ کی طرف سے بھی ریلیف ملے۔ شہباز شریف نوازشریف کے بھائی اور تابعدار ہیں۔نواز شریف بطور وزیراعظم اور شہبازشریف بطور وزیر اعلی پنجاب کامیاب رہے ۔ وزیر اعلی پنجاب کے امیدواروں کیلئے وقت آنے پر طے کر لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا میرا نہیں خیال کہ نواز شریف کے نام کبھی کاٹا لگا ہوا تھا۔جب جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنایا گیا تو اس وقت نواز شریف کے نام پر کوئی کاٹ نہیں تھا۔قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے ڈیڑھ سال تک بھی کوئی کاٹا نہیں تھا۔ وزیر دفاع نے کہا ماضی میں بھی لوگوں نے اپنی پوزیشن سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔گزشتہ ایک سال میں بھی کچھ لوگوں نے اپنی پوزیشن سے فائدہ پہنچایا۔نواز شریف کو ہٹانے اور دوسرے شخص کو لانے میں ملک کو نقصان بہت ہوا۔نواز شریف کو کاٹا لگانے کے چکر میں ایسے شخص کو لے آئے جس کو کچھ پتہ نہیں تھا۔آج کل تو اس شخص کے بارے میں ہم نے بات کرنا ہی چھوڑ دی ہے۔آج کل تو اس کے اپنے لوگوں نے حقائق بیان کرنا شروع کر دیئے ہیں۔احد چیمہ کو وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے کہا گیا لیکن وہ نہیں بنا جیل کاٹی،ہمارے لوگوں نے بھی جیلیں کاٹیں لیکن حوصلے سے کھڑے رہے۔خواجہ آصف نے کہا عمر کے ساتھ کچھ مسائل ہوتے ہیں لیکن باقی نواز شریف کی طبیعت ٹھیک ہے۔نواز شریف کے پلیٹ لیٹس پر ماہرین نے رائے دی تھی، ہیر پھیر نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ لینے والے لوگ بھی ہوں گے۔ایسے بے شمار لوگ ہیں جو آج بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں وہ ٹکٹ لیں گے۔پی ٹی آئی سے لوگ ان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ٹوٹے ہیں۔2019 یا2021 میں پی ٹی آئی اتحادی ان کے ساتھ تھے ہمارے ساتھ نہیں آئے تھے۔چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے ایک جملہ استعمال کیا گیا تھا کہ بس بہت ہو گیا۔یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کبھی گزارا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا چیئرمین پی ٹی آئی شاید اتنے ناراض نہ تھے جتنے خود اسٹشیبلمنٹ والے ناراض تھے۔اسٹیبلشمنٹ دیکھ رہی تھی کہ ان کا تجربہ اور 2018 کی محنت ضائع ہو رہی ہے۔انہوں نے یہ لفظ استعمال کیا (وی ہیڈ انف آف ہم )۔ہم نے جواب میں کہا کہ ( وی آرناٹ انٹرسٹڈ)۔ہمارے ساتھ 2018 میں جو ہوا ہے کیا وہ سب کے سامنے نہیں ہے۔2018ءکے تجربے کی ناکامی کا ادر اک ہو چکا تھا اس لئے ایسی باتیں سامنے آ ئیں ۔ انکا کہنا تنھا سیاستدانوں کوایسا راستہ اپنانا چاہئے کہ جس سے ملک کو نقصان نہ ہو جمہوریت کا دفاع بھی کیا جا سکتا ہے سول ملٹری تعلقات بھی قائم رکھے جا سکتے ہیں۔4،5 سال میں ایسے نقصانات ہوئے جن کو کبھی بھی درست نہیں کیا جا سکے گا۔نواز شریف کی بیٹی کو والد کے سامنے جیل سے گرفتار کیا گیا جو درست نہیں تھا۔ہمیں کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے سیاسی قیمت تو ادا کرناہوتی ہے۔سیاسی ورکر کو جائز یا ناجائز گرفتاری دینا ہوتی ہے، ہمیں کوئی فکر نہیں ہے۔اچھا وقت آئے یا برا وقت آئے سیاسی ورکر کی عزت تو برقرار رکھنی چاہئے۔یہ کیسے لوگ ہیں جو ایک ایک رات میں ہی تبدیل ہو گئے۔ ۔ ہماری بھی گرفتاریاں ہوئی کیا ہم نے ایسے پریس کانفرنسز کیں۔ن لیگ اور پی ٹی آئی کے پولیٹیکل میٹریل میں بڑا فرق ہے۔ وزیر دفا ع نے کہا نواز شریف کو باہر جانے کی اجا زت چیئرمین پی ٹی آئی نے نہیں دینی تھی۔نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت اسٹیبلشمنٹ نے دینی تھی۔الیکشن آرہا ہے ،ووٹ کو عزت دینی ہے۔پی ٹی آئی کے جن لوگوں پر مقدمہ ہے ان کا الیکشن لڑنا مشکل ہو سکتا ہے۔پی ٹی آئی کے جن لوگوں پر مقدمے نہیں وہ الیکشن لڑ سکتے ہیں۔شیریں مزاری ٹی وی پر جو گفتگو کر رہی تھیں سب نے دیکھا۔میں یہ کہہ سکتا ہوں نو مئی کے دن شیریں مزاری نہیں تھیں۔ اپریل 2019 کے بعد وہ ان سے بیزار تھے۔اس وقت حکومت تبدیلی کی آفر بھی کی گئی جس سے انکار کیا۔2019 کا میں خود گواہ ہوں،2021-2022 کا کوئی اور ساتھی گواہ ہو گا۔ انہوں نے کہا میری اہلیہ تین سال تک عدالتوں میں گئی کیا کسی کو پتا چلا۔ہم کہیں گلگت بلتستان میں چھپے نہیں، سڑکوں سے گرفتار ہوئے۔اچھا یا برا وقت ہو سیاستدان کو عزت کے ساتھ سامنا کرنا چاہئے۔شاہد خاقان عباسی کو ضرور ٹکٹ ملے گا۔شاہد خاقان کا مطالبہ کہ نظام ٹھیک ہونا چاہئے بلکہ درست کہتے ہیں۔نظام کو کوئی تنہا ٹھیک نہیں کر سکتا۔وزیر دفاع نے کہا الیکشن2023میں ہی ہوں گے آگے نہیں جائیں گے۔طے ہو چکا ہے کہ الیکشن تین ماہ کے اندر ہونے چاہئیں۔ الیکشن کی ساکھ برقرار ہے، ہیر پھیر کے باوجود لوگ ووٹ دینے آتے ہیں۔ نواز شریف کو کبھی تصادم ادارے کے ساتھ نہیں ہوافرد کے ساتھ ہوا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کی وجہ سے وزیراعظم کا دفتر اپنی قدرومنزلت کھو چکا۔توشہ خانہ سے پہلے سب کچھ لیا جا سکتا تھا لیکن ہم نے اب قانون تبدیل کر دیا۔گاڑیاں وغیرہ اب توشہ خانہ سے نہیں لی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا راجہ ریاض ٹکٹ مانگیں گے تو ضرور دیں گے۔راجہ ریاض اور گروپ نے ایک سا گزارا ہے اور اپنی ساکھ بنائی ہے۔الیکشن عجیب معاملات ہوتے ہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ آئندہ الیکشن میں ن لیگ کی دو تہائی اکثریت ہو گی۔ انہوں نے کہا اس بات کا امکان ہے کہ نگراں وزیراعظم سینئر سیاستدان ہو گا۔نو مئی کے سانحے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو قیمت چکانا ہو گی۔آئی ایم ایف سے ڈیل میں اہم کردار شہباز شریف اور آرمی چیف کا تھا۔