آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان کے زیر اہتمام یوم مئی کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار ، قومی اداروں کی نجکاری کو ترک کیا جائے،مقررین
کوئٹہ :آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان کے زیر اہتمام یوم مئی کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار بموضوع” حکومت ، عدالتیں اور مزدور حقوق” کے سلسلے میں خورشید لیبر ہال کوئٹہ میں منعقد ہوا۔سیمینار کے مہمان خصوصی عنایت اللہ کاسی ایڈوکیٹ ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز کیسکو تھے۔ سیمینار سے عنایت اللہ کاسی ایڈوکیٹ ،کنفیڈریشن کے رہنماﺅں محمد رمضان اچکزئی، محمد یوسف کاکڑ، عبدالباقی لہڑی، محمد ایوب، ملک محمد آصف،سید آغا محمد اورممتاز قانون دان اعظم جان زرکون ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کورونا وائرس کے موزی مرض کی وجہ سے ہم سڑکوں پر روایتی جلوس اور پارکوں میں جلسے منعقد نہیں کر سکے ہیں ۔مقررین نے سب سے پہلے1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو کے ان جان نثاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سرخ سلام پیش کیا جنہوں نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دے کر پوری دنیا کے مزدوروں، مظلوموں اور پسے ہوئے طبقات کیلئے محنت کے بدلے کام کے اوقات کار 08 گھنٹے اور دوسرے ایسے مراعات حاصل کئے جو آج پوری دنیا کے قوانین میں مزدوروں کو حاصل ہےں ۔ مہذب اور جمہوری دنیا میں ان قوانین کی پاسداری کے نتیجے میں مزدوروں کو بھی جینے کا حق حاصل ہے ۔ 1886 کے مزدوروں کی شاندار جدوجہد کے نتیجے میں یورپ او ر صنعتی دنیا کے دیگر صنعتی ملکوں میں انقلابات رونما ہوئے۔ 1917 میں روس کے اندر مزدوروں کی حکومت کا قیام اور اس طریقے سے پورے یورپ، چین اور دیگر ممالک میں سرمایہ داروں کے مقابلے میں مزدور طبقے نے اجتماعی جدوجہد کے ذریعے حقوق حاصل کئے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے رکھوالوں نے 1919 میں آئی ایل او قائم کیا جس میں سہ فریقی انتظام موجود ہے جس کے مطابق حکومت ، مالکان اور مزدور مل کر پوری دنیا کے ممالک کی رہنمائی کیلئے کنونشنز پاس کرتی ہے اور جو حکومتیں ان کنونشنز کو مان لیتی ہیں وہ حکومتیں اپنے ملک کے آئین اور قوانین میں مزدوروں کے ٹریڈ یونین اور اجتماعی سودا کاری کے حق کو بطور بنیادی انسانی حقوق شامل کرتے ہیں۔ آج کے دن جب مزدور متحد ہو جائے تو حکومت اور عدالتیں بھی ان کی قوانین پر عملداری کریں گے۔ جن لوگوں کے ہاتھوں پوری دنیا کی آسائشیں ، بلڈنگز اور خواراک حاصل ہوتی ہیں وہی طبقہ دو وقت کی روٹی کا محتاج ، تعلیم سے محروم اور بیماری سے سسک سسک کر مر رہے ہیں۔ حکومت اور عدالتیں مزدوروں کے قوانین پر عملدرآمد کروا کر ایک فلاحی معاشرے کے قیام میں کردار ادا کریں۔مقررین نے مزدوروں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے حقو ق کیلئے ہمہ وقت ان کے ساتھ ہوں گے۔یکم مئی دنیا کے مزدوروں ، کسانوں، محنت کشوں اور غریب عوام کا دن ہے۔ آج کے دن سیاسی، معاشی، معاشرتی، اقتصادی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمار ا فرض بنتا ہے کہ اس تاریخی دن کی سیاسی و طبقاتی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے لائحہ عمل کا تعین کرے۔آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے اس خطے اور ملک بھر میں دی جانے والی پالیسیوں کے منفی اثرات تیزی سے رونما ہو چکے ہیں۔ ہمارے حکمران آئی ایم ایف اور مالیاتی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے محنت کشوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ مزدوروں کو اس دن کو منانے کا مقصد ہی یہ رہا ہے کہ محنت کش طبقہ کے استحصال کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ہمارے ملک میں 1973 کے آئین کی آرٹیکل 17 کے تحت مزدوروں کو ٹریڈ یونین بنانے اور اجتماعی سودا کاری کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی سطح پر آئی آر اے 2012 اور صوبائی سطح پر ہر صوبے نے اپنا انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ بنا لیا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ ہمارے ملک کے اندر آئینی گارنٹی کے ساتھ قوانین بھی موجود ہیں لیکن اس آئینی گارنٹی اور قوانین میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ پر عملدرآمد کی مشینری مکمل طور پر ناکام ہے اور آج صوبہ بلوچستان میں حکومتی فیصلے کے تحت 62 یونینز کو بیک قلم جنبش منسوخ کرکے ذمہ داری عدالت پر ڈال دی گئی ہے لیکن عدالت عالیہ بلوچستان اپنے احکامات کو اس طرح ہوا میں اڑا دینے پر حکومتی اتھارٹیز کے خلاف تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر چکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج صوبہ بلوچستان میں مزدوروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ ملک میں اسٹبلشمنٹ کی حکومت قائم ہے ۔ عوام جتنا بھی ظلم، ناانصافی، بے روزگاری، مہنگائی، بد امنی کا شکار رہے انھیں عوام کے ویلفیئر سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے ووٹ کی اہمیت نہیں ہے بلکہ طاقتور حلقے او ر اسٹبلشمنٹ جسے چاہے جتنے عرصے کیلئے حکمرانی کی سند دے سکتے ہیں۔ اسی طرح ملکی سطح پرذوالفقار علی بھٹو شہید سے لے کر نواز شریف اور اس کے خاندان کے تمام لوگ بھی اسی طاقتور اسٹبلشمنٹ کی مرہون منت ملک پر کئی بار حکمرانی کر چکے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے ، طاقتور اسٹبلشمنٹ ڈاکوﺅں، چوروں، قاتلوں کی سرپرستی کی بجائے آئین اور قانون کے تحت عوام کی آواز کو بلند ہونے دیں اور عوام کو یہ حق دے کہ وہ کس کو اپنے مسائل کے حل کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ اس طرح سے عوام کے منتخب نمائندے عوام کو جوابدہ ہوں گے۔ 2018 کے انتخابات میں تبدیلی کے نام پر وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی کا اقتدار میں آنا عوام کیلئے امید کی کرن تھی لیکن عوام موجودہ حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں اور اب پھر 22 کروڑ عوام کامستقبل مراعات یافتہ طبقے کے سپرد ہونے جارہا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن کی داستانین عام ہو چکی ہیں، دوائی مافیا، چینی مافیا، گیس اور بجلی مافیا، گندم مافیا اور اس طرح کے دیگر مافیاز نے قوم کے اربوں روپے لوٹ لئے ہیں اور گزشتہ تین سالوں سے کوئی ایک مافیا بھی کٹہرے میں آنے کے بعد اپنے انجام کو نہیں پہنچا ہے بلکہ مافیا ز کی طاقت کی وجہ سے اب موجودہ حکومت بھی عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکتی ۔ مقررین نے کہا کہ حکمران طبقے کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ عوام کے فلاحی و بہبود پر توجہ دیں، مہنگائی و بے روزگاری کو ختم کرے ، تمام شہروں میں مراعات یافتہ طبقے کے مسلح جتوں کو ختم کرے تاکہ عام شہری بھی سکھ کا سانس لے سکے ، تنخواہوں میں فرق کو کم سے کم رکھتے ہوئے مزدوروں کی تنخواہ ایک تولہ کے برابر کی جائے، مزدوروں سے روزگار چھیننے کی بجائے قومی اداروں میں اصلاحات لائی جائے اور کرپشن، بد انتظامی کا خاتمہ کیا جائے ، قومی اداروں کی نجکاری کو ترک کیا جائے، عدالتوں میں سستا اور بروقت انصاف فراہم کیا جائے، عدالتوں میں مزدوروں کو خوفزدہ کرنے کی بجائے ان کے مسائل کے حل پر فیصلے کئے جائیں۔ مقررین نے کہا کہ آئی ٹی کے ایک کنسلٹنٹ کو بیرون ملک رہنے والے ووٹرز کی ووٹنگ کا طریقہ کار بتانے کیلئے 28 کروڑ روپے کی تنخواہ مقرر کیا جانا، اسی طرح پاور سیکٹر میں ایک ایم ڈی کی تنخواہ 15 ہزار ڈالر اور دیگر مراعات دینا، ججوں کی تنخواہیں اور مراعات، سیکریٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہیں فیلڈ کی تنخواہوں سے زیادہ ہونے اور انھیں یوٹیلیٹی الاﺅنس دیا جانا اور اسی طرح تنخواہوں میں فرق کی وجہ سے حکومت کے ملازمین میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ گریڈ 01- سے 16 کے تمام ورکرز کی تنخواہوں میں 25 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاﺅنس کی منظوری دے ۔ مقررین نے وفاقی حکومت او ر وزیر اعلیٰ بلوچستان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ورکر ویلفیئر فنڈ، ورکر ویلفیئر فنڈ، سوشل سیکورٹی کے ہسپتالوں اور اولڈ ایج بینیفٹ میں مزدوروں کے اربوں روپوں کی لوٹ مار کا نوٹس لے ۔ ان اداروں کیلئے ٹیکس صنعتکار دیتے ہیں جبکہ ٹیکس کا تمام رقم مزدوروں پر خرچ ہونے کی بجائے غیر قانونی بھرتی ہونے والے آفیسران اور عملے پر خرچ کیا جاتا ہے اور اس تمام مزدوروں کے ویلفیئر کے اداروں میں لوٹ مار اور کرپشن عروج پر ہے۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکومت محکمہ محنت کو ختم کرے تو ان کے خیال میں حکومت کو بہت بڑی رقم بچت ہو سکتی ہے اور مزدوروں کے ساتھ ظلم کرنے والا یہ ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی مزدور اپنے حقوق کیلئے بہتر جدوجہد کر سکیں گے آخر میں مقررین نے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا ۔