شہباز شریف کو روک کر شہزاد اکبر نے عمران خان کے حکم پر عمل کیا،مریم اورنگزیب
لاہور: مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہےکہ شہباز شریف کو روک کر شہزاد اکبر نے عمران خان کے حکم پر عمل کیا، بلیک لسٹ کی قانونی حیثیت نہیں، شہزاد اکبر اور فواد چوہدری کے بیانات آرہے تھے کہ عدالتی حکم نہیں مانتے، اس لیے شہزاد اکبر نے عمران صاحب کے حکم پرعملدرآمد کیا۔انہوں نے لاہور ائیرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیح شہبازشریف اورسیاسی مخالفین ہیں، چھوٹے لوگ بڑے عہدے پر آجائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے لیکن گھبرا نے کی ضرورت نہیں، عوام نے ان کو مسترد کردیا ہے، اب ان کو مسلم لیگ ن کے متحد ہونے کا خوف ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کیا شہباز شریف کو روکنے سے عوام کی مشکلات ختم ہوجائیں گی، وہ آج نہیں تو دو دن بعد چلے جائیں گے، ایسی چھوٹی حرکتیں کرکے حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔اس موقع پر لیگی رہنما عطا اللہ تارڑ نے موجودہ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ذلفی بخاری کوساتھ لے جانا ہو تو ڈیڑھ گھنٹے میں کلیئرنس ہوجاتی ہے، ذلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے کیسے نکلا تھا سب نے دیکھا جب کہ عدالتی حکم میں شہبازشریف کی روانگی اور واپسی کی تاریخیں درج ہیں، شہباز شریف دو مرتبہ بیرون ملک گئے اور واپس آئے، ہم عدالتی حکم پرعملدرآمد کیلئے قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف دوحہ کے راستے برطانیہ جانے کے لیے پرواز نہ کر سکے۔ ائیر پورٹ سے بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد ایف ا?ئی حکام نے آف لوڈ کر دیا۔ شہباز شریف نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ون ٹائم بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔ عطاللہ± تارڈ نے حکام کو عدالتی فیصلہ دکھایا اور پڑھ کر بھی سنایا، لیکن مریم اورنگزیب اور عطااللہ تارڈ ایف آئی اے حکام کو قائل نہ کرسکے۔ایف آئی اے حکام کے روکے جانے کے بعد شہباز شریف کو آف لوڈ کرنے کا فارم آرڈر بھی جاری کر دیا گیا۔جس کے بعد قطر ائیر لائن کی پرواز کیو آر 621 اپنے مقررہ وقت چار بجکر پچاس منٹ پر لاہور سے دوحہ کے لئے پرواز کرگئی۔ تاہم مسلم لیگ ن کے صدرشہباز شریف اور لیگی قیادت ا?ج قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔