قومی خبریں

محصولات کو بڑھانا ہماری اولین ترجیح ہے ،شوکت ترین

اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو سب سے بڑا چےلنج جاری خسارہ تھا ، مودجودہ آئی اےم اےف پروگرام بہت مشکل تھا آئی ایم ایف نے سخت شرائط رکھےں جن کی سےاسی قےمت بھی ہے اس وقت معیشت کورونا سے شدید خطرات لاحق ہیں، معیشت کی بحالی شرو ع ہو چکی ہے وزےراعظم چاہتے ہےں کہ مہنگائی کم کی جائے لیکن مہنگائی کی وجوہات کیا ہےں ےہ جاننا ضروری ہے ، اےف بی آر نے اچھے کام کئے لےکن ہراسمنٹ کے واقعات بھی ہوئے لوگوں کو ٹےکس نےٹ مےں لانے کےلئے اےسے واقعات کو روکنا ہو گا ۔ چےن سے صنعتےں پاکستان مےں لانے کی درخواست کرےں گے ۔ بدھ کو اسلام آباد مےں پرےس کانفرنس کرتے ہوئے وزےر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت جب آئی اےم اےف کے پاس گئی تو صورتحال 2008جےسی نہےں تھی اس وقت ماحول فرےنڈلی نہےں تھا ہمارا ےہ آئی اےم اےف پروگرام خاصا مشکل تھا معاشی مشکلات کی وجہ سے ہمےں مجبور ی کے تحت ہمےں آ¾ئی اےم اےف کے پاس جانا پڑا آئی اےم اےف نے کافی کڑی شرائط رکھےں جس کی سےاسی قےمت بھی ہے معاشی طور پر استحکام کی طرف جار ہے تھے کہ کورونا آگےا ۔ کوورنا کے دوران حکومت نے 1200ارب کا پیکیج دےا اس وقت ہمےں خطرہ کورونا سے ہے ورنہ ہماری معیشت بحال ہو چکی ہو تی۔ محصولات کو بڑھانا ہماری اولےن ترجےح ہے ،سمارٹ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے صنعتی پہےہ چل گئیں اور معیشت کو سہارا ملا ۔ کورونا کی وجہ سے گروتھ 92 سے57پر چلی گئی 20 اپرےل تک ہماری گروتھ 92فےصد تھی ہم نے معیشت کےلئے پلاننگ چھوڑ د ی تھی جسے اب ہم نے جاری رکھنا ہے جب پلاننگ کرتے تھے تو ہماری معیشت دنےا کی بہترےن معیشتوں مےں شمار ہو تی تھی ہم لانگ ٹرم ،مڈٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ بندی کر رہے ہےں ترسےلات زر مےں رےکارڈ اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزےراعظم عمران کی تشوےش ہے کہ عام آدمی کےلئے مہنگائی کم کی جائے ہم نے د ےکھنا ہے کہ مہنگائی کی کےا وجوہات ہےں ۔ مہنگائی چانچنے کےلئے 35شہروں سے قےمتےں لی جار ہی ہےں ہمارے پاس کوئی سوشل سکیورٹی نہےں ہے ۔ زراعت کے شعبے مےں 15سال سے کوئی ترقی نہےں آئی ہمےں زراعت پر پےسے خرچ کرنا پڑےں گے کےونکہ زراعت ہماری سب سے اہم انڈسٹری ہے ۔ اےف بی آر نے اچھا کام کےا مگر ہراسمنٹ کے بھی واقعات پےش آئے لوگ ہراسمنٹ کے ڈر کی وجہ سے ٹےکس نےٹ مےں نہےں آتے بجٹ مےں ےقےنی بنائےں گے کہ ٹےکس نےٹ مےں آنے والے لوگوں کو ہراساں نہ کےا جا ئے سی پےک مےں چےن نے انفراسٹرکچر مےں بہت پےسہ خرچ کےا ہمےں سی پےک پر کافی توجہ دےنا ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ چےن کو اقتصادی زونز مےں زےادہ سے زےادہ صنعتےں لگانے پر زور دے رہے ہےں چےن سے کہ رہے کے وہ اپنی کمپنےاں ےہاں لائےں ۔ پاکستان مےں ہاﺅسنگ سے متعلق فور کلوژر قوانےن نہےں تھے ہاﺅسنگ شعبے پر بھی توجہ ہماری مرکوز ہے آئی ٹی کے شعبے مےں توجہ دےں تو ےہ بھی گےم چےنجر ہو سکتا ہے ۔ وزےر خزانہ نے کہا کہ لاگت مےں کمی لاکر برآمدات بڑھا سکتے ہےں، کامےاب جوان پروگرام کے ساتھ کامےاب کسان پروگرام بھی شروع کرےں گے ،ڈومےسٹک کامرس کےلئے بھی ہمےں اقدامات شرو ع کرنا ہو نگے بنک ہمارے اےس اےم اےز کو قرض ہی نہےں دےتے تھے حکومت اےس اےم اےز کےلئے پےسے ڈال رہی ہے ،رےونےو اور پاور سےکٹر بھی ہمار ے لےئے اہم چےلنجز ہےں آئی اےم اےف سے کہا ہے کہ 92فےصد رےونےو اکٹھا کر رہے تھے لےکن بدقسمتی سے کورونا کی وجہ سے 57فےصد پر آ گئے آئی اےم پروگرام سے نہےں نکلےں گے، پروگرام چل رہا ہے ، رےونےو ہم نے بڑھا نا ہے اور بڑھائےں گے لےکن آئی اےم اےف سے ےہ کہا ہے کہ ہمےں رےونےو کا ٹارگٹ نہ دےں اےسے نہےں ہو گا کہ 3ہزار سے 55سو تک کا ٹارگٹ دےا جائے ۔