مستونگ، سکول کے قریب بم دھماکے سے بچوں سمیت5 افراد جاں بحق، 16زخمی
مستونگ:مستونگ میں دھماکے سے سکول کے بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق اور 16 افراد زخمی ہو گئے،سیکورٹی حکام کے مطابق دھماکے کی زد میں اسکول کے بچوں کی وین سمیت پولیس گاڑی بھی آئی،
بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ضلعی انتظامیہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئی،پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں 3 بچے، ایک پولیس اہلکاراورایک راہگیرشامل ہے جبکہ جاں بحق بچوں کی عمریں5سے10سال کے درمیان ہے۔
جاں بحق افراد میں ایک پولیس اہلکار، تین بچے اور ایک راہ گیر شامل ہے۔ دھماکے میں 13 افراد زخمی ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے، زخمیوں کو ڈی ایچ گیو اور غوث بخش رئیسانی ہسپتال منتقل کیاگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم اسکول کی وین بھی دھماکے کی زد میں آ گئی جس کے نتیجے میں سکول کے 3 بچے اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا۔
زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بعد ازاں دھماکے کا ایک اور زخمی دوران علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی۔بم دھماکے میں چوک پر موجود دیگر گاڑیوں اور رکشوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دھماکے کی آواز قریبی علاقوں میں بھی سنی گئی جبکہ پولیس اور ریسکیو کا عملہ جائے وقوع پر پہنچ گیا ہے۔صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے سول ہسپتال، بی ایم سی اسپتال کوئٹہ اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت نے محکمہ داخلہ بلوچستان سے واقعے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکار اور بچوں کے ورثاءسے اظہارِ افسوس کیا ہے، ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے مزدوروں کے ساتھ اب معصوم بچوں کو نشانہ بنایا،
معصوم بچوں اور بے گناہ افراد کے خون کا حساب لیں گے۔دہشت گردوں نے غریب مزدوروں کے ساتھ اب معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔ انسانیت سوز واقعہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ شہری آبادی میں مقامی افراد کو بھی دہشت گردوں پر نظر رکھنی ہوگی۔ مل جل کر ہی دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔