لاہور میں مصنوعی بارش کی تیاری
لاہور :صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں سموگ کی روک تھام کے لیے مصنوعی بارش کرنے کی تیاریاں شروع کرنے کا دعویٰ سامنے آگیا۔ جیو نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مصنوعی بارش کے لیے محکمہ موسمیات اور ماحولیات کی جانب سے اہم کردار ادا کیا جائے گا جب کہ وزارتِ خزانہ نے صوبائی دارالحکومت میں مصنوعی بارش پر 35 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا ہے، اس کے علاوہ آ لودگی بڑھنے کی وجہ سے بچوں کو سکولوں میں چھٹیاں دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے سموگ کی روک تھام کیلئے زیرو ٹالرنس مہم کا آ غاز کر دیا ہے، پنجاب تحفظ ماحول قانون، سموگ روک تھام قواعد 2023 ءکے تحت ماحولیاتی الودگی کا باعث بننے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جا رہا ہے، رواں ماہ اب تک 11 جب کہ پچھلے 3 ماہ کے دوران65 ماحول دشمنوں کو موقع سے گرفتار کر کے ان کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے، کاروائیاں صنعتی و گھریلو سطح کے یونٹس اور انفرادی ملزمان کے خلاف کی گئیں۔
ڈی آ ئی جی آ پریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ فصلوں کی باقیات، ٹائر کا فضلہ اور دیگر مواد جلانا فضائی الودگی کا سبب ہے جو کہ قانوناًً جرم ہے، ہم ایسی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کریں گے جو ہمارے ماحول کو نقصان پہنچائے، لاہور پولیس کی طرف سے سموگ پری ونشن اینڈ کنٹرول رولز 2023 پر عمل درآمد کے سپیشل پٹرولنگ سکواڈ بھی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے مضافات میں فصلوں کی باقیات جلانے کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، لاہور پولیس بھٹوں، کوڑا اور ٹائر جلانے والے پائرولسزپلانٹس کی نگرانی بھی کر رہی ہے، شہری لاہور کی فضا کو محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور آ لودگی کا باعث بننے والوں کی اطلاع دیں۔