قومی خبریں

چینی مہنگی کرنےوالوں کوNRO نہیں ملے گا، عمران خان

اسلام آباد: وزےراعظم عمران خان نے کہا ہے کشمےر کی سابقہ حیثیت بحال ہونے تک بھارت سے مذاکرات نہےں ہو سکتے ، ‘مغربی ممالک نے بھارت کو چین کے خلاف معاشی محاذ پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے لےکن بھارت تباہ ہو گا ،جنہوں نے چینی مہنگی کی ان کو معاف نہیں کروں گا، چاہے میری حکومت چلی جائے، ماضی مےں نواز شرےف نے ڈنڈوں سے سپرےم کورٹ پر حملہ کےا ،شہباز شرےف بھاگنے کی کوشش کر رہے لےکن اس بار نہےں بھاگنے دےں گے ، پاکستان کا بڑا مسئلہ قانون کی عدم بالادستی ہے، مافےاز کا مقابلہ کر کے دکھاﺅں گا ،قوم سے اپیل ہے کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے پر عمل کریں، وزرا اچھا کام نہیں کریں گے تو ٹیم بدلنی پڑے گی۔ منگل کو عوام کی جانب سے براہ راست پوچھے گئے سوالات کے جواب دےتے ہوئے وزےراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا، اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور ہم پہلی اور دوسری لہر سے کامیابی کے ساتھ نکلے، کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہے، بھارت کے حالات سب کے سامنے ہیں، بنگلا دیش میں بھی کیسز تیزی سے اوپر جارہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں کیسز مزید تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں، وہاں لوگ سڑکوں پر مر رہے ہیں، آکسیجن کی کمی ہے، خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں کیسز تیزی سے اوپر نہیں جارہے، قوم سے اپیل ہے کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے پر عمل کریں، عید کی چھٹیوں میں ماسک لازمی پہنیں اور لوگوں کو کورونا سے بچائیں، عوام ایس او پیز پرعمل کریں کہ لاک ڈاوَن نہ کرنا پڑے، لاک ڈاوَن سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانی کی جانب سے ایک سفارت کار کی شکایت پر وزیر اعظم نے کہا ‘فارن آفس متعلق گفتگو لائیو نہیں ہونی چاہیے تھی ۔وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی سفارتخانوں میں پاکستانیوں سے خراب رویے سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کی کہ ایسا لگا کہ جیسے میں پورے فارن آفس کو اس کی خراب کارکردگی پر کوس رہا ہوں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے گزشتہ بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فارن آفس بہتر انداز میں کام کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مغربی ممالک کو چین کا خوف ہے، مغربی ممالک نے چین کے مقابلے میں بھارت کو لانے کا فیصلہ کیا ہے لےکن بھارت اگر چےن کا مقابلہ کرےگا تو وہ خود تباہ ہو جا ئے گا۔ بھارت مےں مسلمانوں اور اقلتےوں پر ظلم ہو رہا ہے مقبوضہ کشمےر مےں عالمی برادری کو چاہیے کہ کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے، جب تک بھارت 5 اگست کےاقدامات کوواپس نہیں لیتا بات چیت نہیں کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا ہوں۔ کرکٹ کی وجہ سے پوری دنیا دیکھی اور وہاں کا سسٹم دیکھا، دنیا کی تاریخ ہے کہ جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے اوپر گئی، بہترین معاشرے میں قانون غریب کو تحفظ دیتا ہے، ریاست مدینہ اس لیے عظیم ریاست بنی کیونکہ اس میں قانون سب کے لئے برابر تھا، سائیکل اور بھینس گائے چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا، جب ملک کاسربراہ اورطاقتورلوگ چوری کرتے ہیں توملک تباہ ہوجاتا ہے، ہر سال غریب ملکوں سے ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیرملکوں میں جاتا ہے۔ ماضی مےں اےک منتخب جمہوری وزےراعظم نواز شریف کے دورمیں سپریم کورٹ پرڈنڈوں سے حملہ کےا اور جسٹس سجاد علی شاہ بے چارہ جان بچا کر وہاں سے نکلا جبکہ دےگر ججز صاحبان بچنے کے لیے بھاگتے رہے، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام قائم کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتے، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ایک جہاد ہے، مافیا کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھارہا ہے، شوگر سمیت دیگر مافیاز نہیں چاہتے کہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو۔ مافیاز کا مقابلے کرکے جیت کر دکھاوَں گا۔ رےا ست مدےنہ مےں طاقتور اور کمزور کےلئے اےک قانون تھا تحرےک انصاف کی بنےاد ی ہی مساوی قانون پر رکھی گئی ۔ حضرت علی کا قول ہے کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نظام نہےں چل سکتا ۔ ملک تب تباہ ہو تا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک چیف جسٹس کو باہر نکالا اور مجھے فخر ہے کہ پرویز مشرف کے اقدام کےخلاف جدوجہد کی اور مجھے پابند سلاسل کردیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ دو لیڈر اپنے بڑے بڑے محلات میں رہنے کے لیے بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔عمران خان نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اس لیے نیب اور عدلیہ کے معاملات اور امور میں مداخلت نہیں کرتے۔ جسٹس منےر کے فےصلے سے قانون کی بجائے طاقت کی حکمرانی آئی ہم قانون کی با لا دستی چا ہتے ہےں طاقتور کو قانون کے زےر ساےہ لانا جہاد کے برابر ہے جو مافےاز بےٹھے ہےں وہ کبھی بھی نہےں چاہے گا کہ ملک مےں قانون کی با لا دستی ہو۔ وزےراعظم نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ سارے بڑے شہروں میں پانی کا مسئلہ آنے والا ہے، کراچی میں پانی مسئلہ بہت سنگین ہے، شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں، بغیر ماسٹر پلان کے جب شہر پھیلتے جائیں گے تو پانی کا مسئلہ پیدا ہوگا، شہروں کے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں، راوی کے اوپر جھیل بنا رہے ہیں، دنیا میں گھر بنانے کیلئے بینک پیسے دیتے ہیں، حکومت ہر گھر پر 3 لاکھ روپے سبسڈی دے رہی ہے، ایک خاص بینک بنایا جائے گا جو صرف گھر بنانے کیلئے قرضہ دے گا۔وزیراعظم نے عوام کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کی سرکاری زمین واگزار کرائی ہے، سابق وزیر اور ایم پی ایز قبضوں میں ملوث تھے، مریم نواز قبضوں میں ملوث ایک رکن اسمبلی کے ساتھ کھڑی ہوگئیں، جو انتقامی کارروائی کا شور کر رہے ہیں وہ عدالت کیوں نہیں جاتے؟۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ چھوٹے ڈاکو سے لوگ تنگ ہوتے ہیں لیکن ملک تباہ نہیں ہوتا، حکمرانوں کی کرپشن سے ملک تباہ ہو جاتا ہے، مجھے خوف خدا ہے اس لیے این آر او نہیں دوں گا، جہانگیر ترین کہہ رہے ہیں ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا، میں نے آج تک کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جب میں مخالف سے انصافی نہیں کرتا تو اپنی پارٹی کے رہنما کے ساتھ کیسے کروں گا، جنہوں نے چینی مہنگی کرکے عوام کو نقصان پہنچایا، حکومت چلی جائے لیکن انہیں این آر او نہیں دوں گا، جتنے بھی طاقتور ہیں ان سب کی شوگر ملز ہیں، ایک روپیہ چینی مہنگی ہوتی ہے تو ان شوگر ملوں کی جیب میں 5 ارب روپیہ چلا جاتا ہے۔ انہوں نے 5 برس میں آج تک 22 ارب روپے ٹیکس دیا ہے، جن میں سے انہیں 12 ارب روپے ری فنڈ اور 29 ارب روپے کی سبسڈی ملی ہے۔ نہ یہ ٹیکس دیتے ہیں اور جب چاہیں چینی مہنگی کرتے رہتے ہیں، یہ وعدہ ہے کہ سارے مافیاز سے نمٹو ں گا لوگ چھوٹے چور سے تنگ ہوتے ہیں لیکن اس سے قوم تباہ نہیں ہوتی، شہباز شریف جانے کی نہیں بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کے خلاف صرف ایک کیس 7 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا ہے، اس کے علاوہ دیگر مقدمات بھی ہے، جب ان کو کوئی گھر بنانا ہو یا گاڑی لینی ہو تو پیسے باہر سے آتے ہیں ورنہ ان کی سارئی دولت باہر ہے، نواز شریف کے بیٹے لندن میں اربوں روپے کے گھروں میں رہتے ہیں، پاکستان کی تمام جیلوں میں قید چوروں پر الزامات کی مالیت جمع کریں تو بھی 7 ارب روپے نہیں بنتی، میں اللہ کو جواب دہ ہوں ، مجھے خوف خدا ہے، بے بڑے چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑامسئلہ مہنگائی ہے، شوکت ترین کو اس لیے لایا کہ وہ مہنگائی میں کمی لانے کے لئے اقدامات کریں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے براہ راست مہنگائی ہوتی ہے، اس لیے خطےمیں اس وقت پیٹرول کی سب سے کم قیمت پاکستان میں ہے، پوری دنیا میںچیزیں مہنگی ہوئی ہیں۔ کسی سے رعاقیت نہیں ہوگی لیکن کسی سے نانصافی نہیں ہوگی۔ وزرا کی کارکردگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیم کے 11کھلاڑی ہوتے ہیں سب سپراسٹار نہیں ہوتے، ٹیم میں کچھ لوگ اچھا کام کرتے ہیں جو اچھا ہوتا وہ سب کو نظر آتا ہے، کئی وزرا بہت اچھا کام کررہے ہیں اور وزرا اچھا کام نہیں کریں گے تو ٹیم بدلنی پڑے گی۔ فلسطےن مےں مسجد اقصی مےں ہونے والی بربرےت پر شدےد الفاظ مےں مذمت کی ہے وزےرخارجہ شاہ محمود قرےشی سے با ت کی ہے کہ وہ ترک ہمنصب اور سعودی ہمنصب سے بات کرےں کہ ہم نے ملکر اسلامو فوبےا کا مقابلہ کر نا ہے اگر ہم متحد ہو کر آواز ا ٹھائےں گے تو زےادہ موثر ہو گا ۔