قومی خبریں

ضمنی الیکشن پی ٹی آئی جیت گئی

لاہور:تحریک انصاف نے مسلم لیگ نون کی جانب سے اپنا قلعہ قراردیئے جانے والے شہر لاہور کی چار میں سے دو نشتوں پر واضح برتری حاصل کرلی ہے جبکہ تیسری نشست بھی مسلم لیگ نون کے ہاتھوں سے نکلتی نظرآرہی ہے اور اب تک کے سامنے آنے والے نتائج میں تیسری نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار کا مارجن تیزی سے بڑھ رہا ہے مجموعی طور پر تحریک انصاف کو 20میں سے 12نشستوں پر برتری حاصل ہے.دوسری جانب الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب کے تمام 20 حلقوں کے کل 3131 پولنگ سٹیشنز میں سے 1585 پولنگ سٹیشنز کے نتائج آ چکے ہیں جن میں ٹرن آﺅٹ 48.05 رہا الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کی کامیابی کا تناسب 47اعشاریہ2فیصد جبکہ مسلم لیگ نون کا 38 اعشاریہ9فیصد چل رہا ہے.مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نوازاور پارٹی ترجمان ملک احمد خان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور انتخابات میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے دوسری جانب تحریک انصاف نے فتح کا جشن منانے کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں .ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اگلے 48گھنٹوں میں نون لیگ کو مزید جھٹکے ملنے کا امکان ہے اور پارٹی قیادت سے ناراض تین سے چار اراکین کے استعفے 22جولائی سے پہلے جمع کروادیئے جائیں جس کے بعد نون لیگ کی عددی اکثریت میں مزید کمی واقع ہوجائے گی. پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جارہی ہے، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ملتان، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، خوشاب اور لاہور کی دو انتخابی کی نشستوں پر کامیابی کے قریب ہے جبکہ پارٹی کو 11 نشستوں پر واضح برتری حاصل ہے.اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق نون لیگ کو 2 اور آزاد امیدوارکو ایک نشست پر برتری حاصل ہے پانچ بجے سے قبل پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے والے ووٹرز نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا جبکہ مقررہ وقت کے بعد آنے والے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی. غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے لاہور حلقہ 158 کے تمام 151 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے سامنے آچکے ہیںجن کے مطابق تحریک انصاف کے میاں محمد عثمان اکرم 37 ہزار 463 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار رانا احسن اشرف 31 ہزار 906 ووٹ حاصل کرسکے واضح رہے کہ 2018 کے انتخابات میں منحرف رکن اسمبلی علیم خان اس حلقے سے کامیاب ہوئے تھے.علاوہ ازیں پی پی 167 (لاہور) کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری انتخابی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے شبیر گجر 40 ہزار 511 ووٹ لیکر کامیابی کے قریب ہیں جبکہ نون لیگ کے نذیر چوہان 26 ہزار 473 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آرہے ہیں . پی پی 83 (خوشاب) کے تمام 215 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ملک حسن اسلم خان کامیاب ہوگئے ہیں غیرسرکاری اور غیر حتمی تنائج کے مطابق پی ٹی آئی کے ملک حسن اسلم نے 48 ہزار 475 ووٹ لے کر آزاد امیدوار محمد آصف ملک کو شکست دی آزاد امیدوار محمد آصف ملک نے 41 ہزار 752 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر آئے.پی پی 217 (ملتان) کے تمام 124 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار مخدوم زین قریشی نے 47 ہزار252 ووٹ حاصل کیئے ہیں الیکشن کمیشن کے مرکزی سیکرٹریٹ کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق نون لیگ کے سلمان نعیم 40 ہزار 203 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پررہے شاہ محمود قریشی کے بیٹے 7 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے کامیاب رہے جبکہ پی پی 217 میں ٹرن آ?ٹ 42 فیصد سے زائد رہا.پی پی 288 (ڈیرہ غازی خان) کے تمام 145 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سردارمحمدسیف الدین کھوسہ 58 ہزار 885 ووٹ لےکر کامیاب ہوگئے مسلم لیگ (ن) کے عبدالقادر خان 32 ہزار 907 ووٹ حاصل کرسکے پی پی 202 (ساہیوال) کے تمام 176 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میجر (ر) محمد غلام سرور نے مسلم لیگ (ن) کے نعمان لنگڑیاں کو شکست دی ہے‘غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار نے 61 ہزار 989 ووٹ جبکہ نون لیگی رہنما نے 59 ہزار 1467 ووٹ حاصل کیے.واضح رہے کہ مسلم لیگ نون کو پنجاب میں اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے 20 میں سے 10 نشستیں جیتنا ضروری ہے ادھر مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں اپنی شکست تسلیم کرلی اور حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی فتح کو تاریخی قرار دیا ہے. مسلم لیگ (ن) پنجاب کے ترجمان ملک احمد خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو تاریخی فتح ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ عوام کا ووٹ ہمارے خلاف آیا ہے، الیکشن کے نتائج بتارہے ہیں کہ ہمارے پاس عددی اکثریت نہیں رہے گی انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہمارے ہاتھ سے جارہی ہے، وفاق میں اتحادی حکومت ہے فیصلہ قیادت نے کرنا ہے.انہوں نے کہاکہ عوام نے ووٹ سے اپنی رائے دی، اس کے بعد حکومت کا رہنا نہ رہنا سیکنڈری ہوجاتا ہے،پنجاب میں حکومت اب لامحالہ تحریک انصاف ہی بنائے گی ملک احمد خان نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے اس حوالے سے بات ہوئی ہے، انہوں نے بھی عوام کی رائے کا احترام کرنے کا کہا ہے. انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی بطور پارٹی کارکن قربانیاں ہیں،پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے حمزہ کو ہم مناسب سمجھتے تھے، اس لیے بنایا نون لیگ پنجاب کے رہنما نے کہا کہ اگر ڈیڑھ سال کے بعد الیکشن ہوتے تو آج ہم یہ بحث نہ کررہے ہوتے،منحرف ارکان کو جماعت میں لینا شکست کی ایک وجہ ہوسکتی ہے.انہوں نے کہاکہ ان نتائج کے بعد اب تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاسی پوزیشنوں کو مضبوط کرنا ہوگا،آئندہ ہم ایک مربوط حکمت عملی کے تحت انتخابی میدان میں جائیں گے ملک احمد خان نے کہا کہ عدم اعتماد سے حکومتیں تو گرجاتی ہیں لیکن اس کے بعد آنے والی حکومت کو چلانا مشکل ہوتا ہے،اگر اس وقت ہم انتخابات میں جاتے تو آج کسے کے کیے کا بوجھ ہم پر نہ ہوتا.