ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوانوں کو 5 کروڑ روپے تک قرض دینے کا فیصلہ
اسلام آباد : وفاقی حکومت نے کامیاب جوان پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت پروگرام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا ۔ گورنر اسٹیٹ بینک، معاون خصوصی عثمان ڈار اور معاشی ماہرین نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں کامیاب جوان پروگرام کو روزگار کی فراہمی کیلئے سب سے بڑا ٹول بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار نوجوانوں کیلئے قرض کی حد کو 5 کروڑ روپے تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر خزانہ نے رقم کی تقسیم کے عمل میں ہنگامی بنیادوں پر تیزی لانے کا عندیہ دے دیا۔ پروگرام کے تحت رقم کی تقسیم کیلئے 4 مختلف کیٹیگریز طے کر دی گئیں۔ پہلی کیٹیگری 1 سے 5 لاکھ روپے تک ہو گی، مائیکرو فنانسنگ کی جائیگی۔ اجلاس میں گاوں،دیہات اور یونین کونسلز کی سطح پر رقم کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا ۔ دوسری کیٹیگری میں رقم 10 سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 10 کی بجائے 20 لاکھ روپے کی رقم بغیر سکیورٹی کے فراہم کی جائیگی۔ تیسری کیٹیگری میں رقم کی حد 20 لاکھ سے ڈھائی کروڑ روپے تک ہو گی۔ چوتھی کیٹیگری میں 5 کروڑ روپے تک کا قرض فراہم کیا جائیگا۔ اجلاس میں کہا گیا 15 جون تک وفاقی کابینہ اور ای سی سی سے تبدیلیوں کی منظوری لی جائیگی۔ اسی سال بجٹ میں رقم مختص کر دی جائیگی۔ اجلاس میں نوجوانوں میں کم از کم 100 ارب روپے کی رقم فوری تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کے دوران کہا کامیاب جوان ملکی معیشت اور انڈسٹری کیلئے انقلابی پروگرام ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا منصوبہ زراعت اور ایس ایم ای سیکٹر کو پاوں پر کھڑا کر سکے گا۔ انہوں نے کہا پروگرام میں شامل بینک قرض کی تقسیم کا عمل فوری تیز کر دیں۔ اجلاس میں گفگو کرتے ہوے عثمان ڈار نے کہا ینگ انٹرپینیورز کی مکمل حوصلہ افزائی کیلئے بھی بڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا زراعت، ایس ایم ایز، سروس سیکٹر اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کیلئے زبردست پیکج تیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کم از کم 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار کا موقع دینا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا آج ہونے والے فیصلے نوجوانوں کے مطالبات کو مد نظر رکھ کر کئے گئے ہیں۔