قومی خبریں

بنگلہ دیش کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ، جدوجہد کو سراہتے ہیں ،عطا تارڑ

اسلام آ باد: وفاقی وزیر قانون عطا تارڑ نے کہا ہے کہ الیکشن ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کثرت رائے سے منظور ہونے کے بعد ایکٹ بنا گیا ۔ اس حوالے سے پہلے سے موجود قانون کو قانونی شکل د ی گئی ہے ۔ پاکستان بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے ہم بنگلہ دیشی عوام کی جدوجہد کو سراہتے ہیں ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ الیکشن تر میمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے کثرت رائے سے منظوری کے بعد ایکٹ بن گیا ہے ۔ روالز کے تحت کو امیدوار ایک جماعت میں شمولیت کا حلف دینے کے بعد پارٹی بدل نہیں سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نیا قانون نہیں بنایا گیا پہلے سے موجود قانون کو قانونی شکل دی گئی ہے ۔ فلور کراسنگ کے حوالے سے آئین اور قانون واضع ہے۔ انہوں نے کہا سیاسی جماعتیں مخصوص نشستوں کیلئے پارلیمنٹ میں فہرستیں دیتی ہیں ، جس پارٹی کا پارلیمنٹ میں وجود ہی نہیں اسے کس طرح مخصوص نشستیں دی گئیں ،سپریم کورٹ کے فیصلے میں دو ججز نے اہم سوالات اٹھائیں ہیں، قانونی معاملات میں انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔ بنگلہ دیش کی صورتحال پر بات کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ اکستان کی حکومت اور عوام بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم بنگلہ دیش کے لوگوں کے عزم کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے آپ کا موازنہ شیخ مجیب کے ساتھ کیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنماوں نے ٹیلی ویڑن پر آ کر کہا کہ ہمارا لیڈر شیخ مجیب کی طرح ہے۔ اور اب یو ٹرن لے لیا ، یو ٹرن نہ لے تو وہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کہلا ہی نہیں سکتا۔ ان کا کوئی دین ایمان بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا بنگلہ دیش میں جب شیخ مجیب کے مجسمے گرائے گئے تو کہتے ہیں کہ دیکھیں عوام نے کیا کیا۔ ان کی جماعت نے یہاں شیخ مجیب کا بیانیہ بنایا اور ہیرو ڈیکلیئر کیا۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاونٹ سے شیخ مجیب کو ہیرو ڈیکلیئر کرنے کی پوسٹیں لگائی گئیں۔ ایک مجسمہ گرنے سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنا بیان بدل لیا۔ یہ وہ رجیم تھی جس نے بنگلہ دیش میں تقسیم پیدا کی تھی۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی بھی تقسیم پیدا کرنے کے قائل ہیں۔ قول و فعل میں تضاد کی ڈگری یو ٹرن کے بادشاہ کو دینی چاہئے۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی سیاست کے لئے اسلام تک کو استعمال کیا۔ انہوں نے کہا بیرسٹر گوہر کو چاہئے کہ وہ جب اپنے لیڈر سے ملاقات کریں تو انہیں بتائیں کہ آپ شیخ مجیب کو آپ ہیرو بنا رہے تھے، اب بیانیہ بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا بنگلہ دیش میں معاشی حالات کا مسئلہ نہیں تھا، تقسیم، نفرت اور کوٹہ سسٹم کا مسئلہ تھا ۔ ہماری خواہش ہے کہ بنگلہ دیش میں حالات معمول پر لوٹ آئیں ۔ انہوں نے کہا جب شیخ مجیب کا بیانیہ بنایا جا رہا تھا تو خان صاحب کو نہیں پتہ تھا کہ اس کی بیٹی کہاں سے مدد مانگ رہی ہے۔ کوئی سیاسی جماعت یا لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں ہے۔ میرے ایمان کا حصہ ہے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ انہوں نے کہا جماعت اسلامی کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملات آگے بڑھے ہیں، گزشتہ روز کے مذاکرات میں کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ کچھ نکات انہیں بھجوائے ہیں، اس پر مزید مشاورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہمارا ایجنڈا ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ بجلی کے بل کم ہونے چاہئیں۔