دہشت گردوں کو بلوچستان کا امن سبوتاژ نہیں کرنے دینگے:عمران خان
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ اور تربت میں ایف سی پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی۔اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے بلوچستان کے شہروں کوئٹہ اور تربت میں ایف سی پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ مذمت کی اور واقعہ میں شہید ہونیوالے ایف سی جوانوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردوں کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے اوران کو بلوچستان میں امن کو سبوتاژنہیں کرنے دینگے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان پر جتنا پیسہ اب خرچ کیا جا رہا ہے ا تنا پہلے کبھی نہیں کیا گیا لیکن اس کے باوجود ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے افسوسناک ہیں،سابق حکومت بھاری قرضے چڑھا کر گئی، ہم نے سخت مشکلات کے باوجود ملکی معیشت کو درست کیا، خوشخبری ہے کہ مشکل وقت سے ہمارا ملک نکل گیا ہے، اگلے سال شرح نمو میں مزید اضافہ ہوگا۔زیارت کے دورے کے موقع پر قائد اعظم ریزیڈنسی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام زیارت میں اس مقام پر گزارے اور میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ یہاں جاو¿ں گا میں سارا پاکستان گھوما ہوں لیکن جس طرح سے آج ہیلی کاپٹر سے زیارت کا جائزہ لیا ہے، ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا اور یہاں پر موجود چار سے پانچ ہزار سال پرانا جنگل دنیا کا اثاثہ ہے۔وزیر اعظم نے شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت نے بلوچستان پر خاص توجہ دی اور یہاں اس طرح کا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا لیکن اس کے باوجود دہشت گردوں کے حملے افسوسناک ہیں۔ ہم نے مشکل وقت میں مشکل حالات کے باوجود بلوچستان کو جنتا بھی ہو سکے، انہیں فنڈز دیے ہیں اور مجھے خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومتیں کہتی ہیں کہ آپ بلوچستان پر بہت زیادہ مہربان ہو گئے ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں بلوچستان کو واقعی نظر انداز کیا گیا۔ بلوچستان پر جو پیسہ خرچ کیا جانا چاہتا تھا، وہ بھی صحیح طریقے سے خرچ نہیں کیا گیا اور نہ ہی توجہ دی گئی جبکہ جو پیسہ دیا بھی گیا، وہ بھی صحیح معنوں میں خرچ نہیں ہوا، وہ پیسہ صحیح معنوں میں خرچ ہو جاتا تو بلوچستان کے حالات بہت بہتر ہونے تھے۔وزیراعظم نے بلوچستان کی عوام کو خوشخبری سنا تے ہوئے کہا کہ ملک مشکل وقت سے نکل رہا ہے ، ہمارے مخالفین نے پہلے سے شور مچا دیا تھا کہ حکومت ناکام ہو گئی، وہ چاہتے تھے کہ حکومت ناکام ہو جائے کیونکہ حکومت اگر اس معاشی بحران سے ملک کو نکال دیتی تو ان کی سیاسی دکانیں بند ہو جائیں گی، لہٰذا ساری قوم کو دو ڈھائی سال اپوزیشن نے کہا پاکستان تباہ ہو گیا، معیشت تباہ ہو گئی اور غریبوں کا برا حال ہو گیا مگر پچھلے سال حکومت 0.5فیصد سے اوپر اٹھ رہی تھی لیکن پچھلے ہفتے جو شرح نمو کے اعدادوشمار آئے ہیں اس کے مطابق تقریباً 4 فیصد نمو سے معیشت ترقی کررہی ہے اور ساری اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ یہ اعدادوشمار ٹھیک نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس لیے ترقی کرے گا کیونکہ اللہ نے پاکستان کو ہر طرح کی نعمت دی ہے، ہمیں خود ہی نہیں پتہ کہ اللہ پاکستان پر کتنا مہربان ہے کیونکہ ہمارے جن حکمرانوں کے گھر، چھٹیاں عیدیں اور علاج بھی باہر ہیں، انہیں کیا پتہ کہ اللہ نے اس ملک کو کتنا نوازا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں بادشاہوں کی طرح اشرفیوں کی تھیلیاں نہیں پھینک سکتا۔ کسی بھی فنڈ کے اجرا کیلئے وزیر خزانہ سے مشاورت کرنا پڑتی ہے۔ حکومت نے بلوچستان کو اپنا سمجھا، ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پہلی بار بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔