قومی خبریں

توشہ خانہ ریفرنس عمران خان کی دونوں درخواستیں مسترد ، 10 مئی کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:ایڈیشنل اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور خان کی عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم پر دس مئی کو فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ دے دی، عدالت نے عمران خان ذاتی حیثیت میں 10 مئی کو طلب کر لیا ۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز عدالت کے سامنے پیش ہوئے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ آپ اپنے دلائل کو آج ہی مکمل کریں ٹرائل پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے خواجہ حارث نے توشہ خانہ کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے افس کو عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت کی ہے ا لیکشن کمیشن کے پاس کرپٹ پریکٹس پر قانونی کاروائی کرنے کا دائرہ اختیار ہے الیکشن کمیشن کسی فرد کو شکائت دائر کرنے کا اختیار دے گی الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو عمران خان کے خلاف شکایت دائر کرنے کی ڈائریکشن نہیں دی الیکشن ایکٹ کے تحت درخواست گزار 120 دنوں کے اندر شکائت دائر کرنے کا اہل ہوتاہے عمران خان کے خلاف شکایت 120 دنوں کے اندر دائر نہیں کی گئی اس موقع پر وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز کا 1996 میں الیکشن قوانین سے متعلق کیس کا حوالہ دیا کہ اس کیس میں بھی الیکشن قوانین کو زیر بحث لایا گیا تھا اس کیس میں بھی الیکشن قوانین کو چیلنج کیا گیا اس فیصلے کے مطابق سیشن کورٹ کا ہی دائرہ اختیار بنتا ہے اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشن کے حوالہ جات بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے الیکشن ایکٹ کا سیکشن 190 اے کا سب سیکشن ٹو کہتا ہے کہ ہر ٹرائل پر سی آر پی سی اپلائی نہیں ہوتاجناب کے سامنے جتنی بھی آڈر پیش کیے گئے ہیں وہ اس پر اپلائی نہیں ہوتا،وہ دوسرے قانون کے تحت ہیں ای سی پی کی خود اسکروٹنی کردہ گوشواروں کی تفصیلات ای سی پی کے ملازم نے جمع کروائیں عمران خان نے جان بوجھ کر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں 120 دنوں کا وقت ایسی صورتحال میں نافذ نہیں ہوتانوٹس جاری ہوئے، فریقین کو سنا گیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنایا 15 دسمبر 2022 کو عدالت نے ملزم کو سمن جاری کیااگر عدالت کو ادراک ہو کہ جرم سرزد ہوا تو کارروائی کا اختیار ہے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس میں عدالت نے ملزم کو وارنٹ جاری کیے اور ملزم کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کی گئی عدالت کو بتانا چاہوں گا کہ بریت کی درخواست کس وقت دائر کی جا سکتی ہےاتنا وقت گزرنے کے باوجود ٹرائل کو تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے اس موقع پر نماز جمعہ کا وقفہ کیا گیا نماز جمعہ کے وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل جاری رکھے انھوں نے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ کرپٹ پریکٹس کے بعد عمران خان نہ کہیں کہ 120 دن گزر گئے مجھ سے کچھ نہ پوچھو ای سی پی کی خود اسکروٹنی کردہ گوشواروں کی تفصیلات ای سی پی کے ملازم نے جمع کروائیں عمران خان نے جان بوجھ کر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی 120 دنوں کا وقت ایسی صورتحال میں نافذ نہیں ہوتانوٹس جاری ہوئے فریقین کو سنا گیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنایا سیشن عدالت کو تین ماہ کے اندر کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ کرنے کا حکم ہے ا لیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کی ڈائریکشن دی ہے الیکشن ایکٹ 190 کے تحت فوجداری کارروائی کی شکائت فائل کرنا غیرقانونی نہیں ہے شکایت دائر کی گئی اور توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوتی رہیں شکائت کنندہ کے دستخط پر اعتراض اٹھایاگیا حیرانگی ہےکہ موجودہ اسٹیج پر شکائت کنندہ کے دستخط پر اعتراض اٹھایاگیا اس موقع پر عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی ناقابلِ ضمانت وارنٹ سیشن عدالت نے جاری کیے جو اپیل پر بھی مسترد ہوئے اس موقع پر جج نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعتراض نہیں اٹھایا آپ نے کہ سیشن عدالت وارنٹ جاری نہیں کرسکتی؟جس پر عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ اگلے جمعہ تک سماعت ملتوی کردیں کیس کو کیس رہنے دیں جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ میرا تو اعتراض ہےکہ عمران خان کی دونوں درخواستیں بھی قابل سماعت ہیں بھی یا نہیں ہیں سیشن عدالت اپنا فیصلہ واپس نہیں کرسکتی عمران خان کو ٹرائل کا سامنا کرناپڑےگا جس پر جج نے کہا کہ درخواستوں کی حد تک سماعت ملتوی نہیں ہوگی دلائل آج ہی ہوں گے جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان دیر سے اٹھتے ہیں جوڈیشل کمپلیکس بھی 4 بجے آئے تھے اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ توشہ خانہ کیس کے دائرہ اختیار کا معاملہ جج ظفراقبال کے سامنے بھی رکھاتھا جس پر عدالت نے کہا کہ سیشن عدالت نے کیس کو قابلِ سماعت وارنٹ اور نوٹس سب جاری کردیے سیشن عدالت کے متعدد فیصلوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیوں نہیں کیا؟ اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ توشہ خانہ کیس کو عام کیس کی طرح لیاجائے، کیا رات تک سنیں گے؟ عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ دونوں درخواستوں کی بنیاد تو بتا دیں جس پر خواجہ حارث نے عدالت سے کہا کہ عدالت سے احسان نہیں چاہیے کیس سنا جائے عمران خان اسلام آباد عدالت پیشی پر آئے اور ان کے گھر پر پولیس نے کاروائی کی جس پر جج نے کہا کہ آپ کو لگتاہے اپنے دلائل پر بھی اعتبار نہیں ہےمیں ایک فیصلے سے دونوں درخواستوں کو مسترد کرسکتاہوں وکیل گوہرعلی خان نے دونوں درخواستوں پر بحث کرنے کی انڈرٹیکنگ دی تھی جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ بحث تو کر رہے ہیں لیکن عدالتی اوقات ختم ہو چکےہیں توشہ خانہ کیس کو سارا دن نہیں چلایا جاسکتاعدالت میں بحث کرنے کے لیے ائے ہیں تاریخ لینے کے لیے نہیں آئے شکائت کنندہ وقاص ملک شکائت دائر کرتے وقت ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر تھے ہی نہیں شکایت کنندہ وقاص ملک کے درخواست پر دستخط بھی مختلف ہیں مختلف دستخط اور تاریخ سے ثابت ہوتاہےکہ درخواست غلط بیانی پر مبنی ہے اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کے وکلائ قسطوں میں توشہ خانہ کیس کو چیلنج کر رہے ہیں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی دونوں درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے دس مئی ا±ن پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی عدالت نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔