جمہوریت کی خاطر ہم نے قربانیاں دیں‘بلاول بھٹو
کوئٹہ : چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں وکلا نے ہمیشہ آمریت کا ڈ ٹ کر مقابلہ کیا ۔ صوبے کو گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردی کا سامنا ہے۔ پارلیمان سمیت تمام اداروں میں مسائل ہیں تاہم عدلیہ کے مسا ئل سب سے زیادہ ہیں ۔ عدلیہ میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی کے لئے آئینی عدالت کا قیام ضروری ہے ۔ بلوچستان با ر ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ ہم تین نسلوں سے جدوجہد کرتے آر ہے ہیں جمہوریت کی خاطر ہم نے قربانیاں دیں ۔ میری خصوصی طور پر بلوچستان کے وکلا سے قربت ہے ۔ اس صوبے کے وکلا نے امریت کے لئے ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا اس وقت صوبے کو دہشتگردی کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا انیس سو تہتر کے آئین کی بحالی شہید بینظیر بھٹو کی سیاسی جدو جہد تھی۔ آئین میثاق جمہوریت کے تحت بحال کیا گیا ۔ جس پر شہید بی بی اور میاں نواز شر یف نے دستخط کئے تھے ۔ ہم نے تمام تنازعات کو پس پشت ڈال کر میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم امر کے بنائے گئے کالے قوانین کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ میرا عدالتی جنگ سے کوئی تعلق نہیں ۔ آپ چاہتے ہیں کہ فیصلے ہوتے رئیں اور ہم شکائت تک نہ کریںلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افتخار چودھری ، میاں نوازشریف کی موجودگی میں تمام کیسز سے بری کردیا گیا، میں قائد عوام کا نواسہ ہوں،بی بی اور صدر کا بیٹا ہوں، میں آپ وکلا جیسا ہی ہوں میرے ساتھ سب کچھ ہوتا آرہا ہے، جنرل کیانی اور جنرل پاشا جب اعلیٰ عہدوں پر تھے تو مک مکا ہوا تھا۔ کہ اگر چارٹر آف ڈیموکریسی لاگو ہو گا، اگر ہم 1973 کے آئین کو اصل صورت میں بحال کریں گے تو اسٹیٹس کو کا کیا ہوگا، ہمارا ڈیموکریسی کا کنٹرول کیا ہوگا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر یہ لوگ 58 (2) (بی) آئین سے نکالیں گے تو آپ (سابق) چیف جسٹس افتخار چوہدری کو دے دیں، اگر ان کو سیاست سے الگ رکھنا ہے تو کسی نہ کسی بہانے پر 62، 63 پر نااہل کر دیں، پوری آزاد عدلیہ نے ہماری جمہوری سفر میں، 30 سال کی جدوجہد کرنے کے بعد 18ویں ترمیم اور 1973 کی بحالی کے بعد ماشااللہ ایسی مثالیں قائم کیں۔ انہوں نے کہا افتخار چوہدری جیسے مائنڈ سیٹ نے عدلیہ کو خراب کیا۔ عدالت نے مشرف کو آئین میں ترمیم کی ا جازت دی ۔ انہوں نے کہا عد لیہ کا کام آئین کی تشریح ہے قانون بنا نا نہیں ۔ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمان کا ہے ۔ انہوں نے کہا کے لئے عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ قائم کرنے کے لئے آئینی عدالت کا قیام ضروری ہے ۔ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کو بھی برابر کی نمائندگی حاصل ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو مرضی کے مطابق ووٹ کا حق حاصل ہے ، فلور کراسنگ بند کرنے کے لئے تریسٹھ اے لائے ۔ تریسٹھ اے پارٹی قواعد پر عمل درآمد کا پابند کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس منصور علی شاہ کا برابر کا احترام کرتا ہوں ۔ میری جدوجہد ان میں سے کسی کے لئے نہیں ۔ ان دونوں میں سے جو بھی آکر آئینی عدالت میں بیٹھے مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرا مسئلہ اس ملک میں انصاف ملنا بہت مشکل ہے ۔ آئین کو ماننے والے ہی ملک کے خیر خواہ ہیں ۔ آئین سے کسی کو کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے ۔ ہم نے سوچ سمجھ کر آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ کیا ہم نے تیس سال کی جدوجہد کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ آئینی عدالت بنے ۔ انہوں نے کہا میرا نہیں آپ ک ایجنڈا کسی خاص شخصیت کے لئے ہو سکتا ہے میرا مسئلہ انصاف سب کو ملنا ہے ، ہم نے نوے کی دہائی عدالتیں بھی دیکھی ہیں میرے والد نے بغیر کسی جرم کے بارہ سال تک سزائے قید کاٹی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں نہ وکلا ، نہ ججز ، نہ اسلام آباد کی سیاست کے لئے کوئی کام کر رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں کہاں پابندی ہے کہ آپ کسی کے خلاف بول نہیں سکتے اگر ثاقب نثار یا کسی اور جج کے خلاف بولیں گے تو آپ پر توئین عدالت لگا دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مانتا ہوں پارلیمان سمیت ہر جگہ مسائل ہیں تاہم عدلیہ میں تھوڑے نہیں بہت سے مسائل ہیں ۔ آپ اپنے خاندان اور دوستوں کو ججج بنانا پسند کرتے ہیں ۔ کمرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے سیٹنگ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس منصور علی شاہ عدلیہ کی تاریخ کے وہ پہلے لوگ ہیں جو ایگزیکٹو اختیارات بخوشی وزیر اعظم اور صدر کو دے رہے ہیں ۔