پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، پٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر مقرر ،دو پہیہ گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی
اسلام آباد: حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی بحران کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور سیاسی قائدین نے شرکت کی۔
بحرانی صورتحال اور ذمہ دارانہ فیصلے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیجی جنگ کی وجہ سے پورے خطے میں توانائی کی قیمتوں کا بھونچال آیا ہوا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہیں جس کے باعث حکومت کو ‘مشکل اور ذمہ دارانہ’ فیصلے لینے پڑے۔
انہوں نے کہا کہ خارجہ محاذ پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم قیمتوں میں اضافہ اب ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کفایت شعاری مہم کے تحت کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی ہے اور قوم کو اس وقت اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔
ٹارگٹڈ سبسڈی اور ریلیف پیکیج وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اب عام سبسڈی کے بجائے صرف مستحق طبقات کو ‘ٹارگٹڈ سبسڈی’ دی جائے گی۔ حکومت نے عوام کے لیے درج ذیل ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے ۔
دو پہیہ گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔چھوٹے کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔بڑی مال بردار گاڑیوں کو ماہانہ 80 ہزار روپے کی سبسڈی ملے گی۔ایندھن کے اخراجات میں وفاقی حکومت ریلوے کو بھی سبسڈی فراہم کرے گی۔
توانائی کی بچت کے لیے نئے اوقات کار وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر اب تک 129 ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔ ایندھن کی بچت کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت شروع کر دی گئی ہے جس کے بعد مارکیٹس اور کاروباری مراکز کے اوقات کار پر نظر ثانی کی جائے گی تاکہ قومی سطح پر بجلی اور ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔مشاورت اور سیاسی حمایت حکومتی وزرائ نے مشکل وقت میں ساتھ دینے پر صدر مملکت، تمام وزرائے اعلیٰ اور اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد ملکی معیشت کو استحکام کی طرف لے جانا ہے تاکہ عالمی دباو¿ کا مقابلہ کیا جا سکے