بدعنوان عناصر بلوچستان کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں،نگران وزیراعلیٰ
کوئٹہ :نگران وزیراعلیٰءبلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت بلوچستان اینٹی کرپشن سٹیبلشمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان بھی اجلاس میں شریک ہو? اجلاس کوسیکریٹری ایس اینڈ جی اے بابر خان اور ادارے کے ڈی جی سہیل انور ہاشمی کی جانب سے ادارے کی کارکردگی وامور پر بریفنگ دی گئی اس موقع پر نگران وزیراعلی کی جانب سے سرکاری محکموں میں بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کی ہدایت کی گئی نگران وزیراعلی کا کہنا تھا کہ بلوچستان سرکاری وسائل کے استعمال میں بدعنوانی اور ضیاع کا متحمل نہیں ہوسکتا وزیراعلءنے واضع اور دوٹوک پیغام دیا کہ نگران دور حکومت میں بدعنوانی میں برداشت کی حد صفر ہوگی نگران وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں مالی بدعنوانی کےپا? جانے والے ٹا ثر کو دور کرنا ہو گا محکمے اور ادارے اپنے مالی امور کو بہتر بنا کر بے ضابطگیوں کو ٹھیک کریں نگران وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان میں سزا و جزا کے تصور کو عملی جامع پہنایا جا? گااچھے افسر ان کی حوصلہ افزائی اور بدعنوانی میں ملوث افسران و اہلکاران کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے گی نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ بد عنوانی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ملازمین کے خلاف کاروائی نہ ہونے سے دیکر افسران میں بددلی پھیلتی ہے سرکاری محکموں میں پائی جانے والی کالی بھیڑوں کی نشاندہی ضروری ہے کیونکہ بدعنوان عناصر بلوچستان کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں اجلاس میں ادارہ انسداد بد عنوانی کو مزید مٹحرک اور فعال بنانے اور اسسے جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا اجلاس میں چیف سیکریٹری کی اس تجویز سے اتفاق کیا گیا کہ انکوائیری کی نوعیت کے مطابق دیگر محکموں سے ماہرین کو ادارے میں ڈیپوٹیشن پر لایا جا? گا اجلاس میں ادارہ کو زیر تفتیش کیسز کو فوری طور پر نمٹانے کی ہدایت کی گئی جبکہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سے زیر تکمیل منصوبوں کی تفصیل لیکر انکا معائنہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی اجلاس میں جعلی ہاو¿سنگ سکیموں کے زریعہ عوام سے پیسے ہتھیانے والوں کے خلاف تحقیات کا آغاز کرکے گھیرا تنگ کرنے اور منصوبوں کے صر ف کاغذات تک محدود ہونے اور زمین پر نظر نہ آنے کی اطلاعات کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔