قومی خبریں

اشتہارات کو BPPRA پر منتقلی کے ڈرافٹ پر اکثریتی سٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کیا گیا،ایکشن کمیٹی

کوئٹہ: ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کا علامتی احتجاجی کیمپ آج بھی جاری رہا ۔ علامتی احتجاجی کیمپ میں اخبارات ،جرائد اور اخبار مارکیٹ کے نمائندگان موجود رہے ۔

علامتی احتجاجی کیمپ میں اخباری صنعت کو درپیش مسائل پر مشاورت بھی کی گئی جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے شرکاءنے مختلف تجاویز بھی دیں ۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے شرکاءکا کہنا تھا کہ ہماری جدوجہد اخباری صنعت کی بقاءکیلئے ہے کیونکہ اگر یہ صنعت موجود رہی تو اس کے ہر شعبہ میں بہتری لائی جاسکتی ہے

لیکن اگر حکومت کی جانب سے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کردیا گیا تو ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرنے والی صوبے کی واحد صنعت تباہی کے دوچار ہو جائے گی ۔شرکاءکا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں ایسی کوئی پالیسی نہیں لیکن بلوچستان جیسے محرومی سے دوچار صوبے کے تعلیم یافتہ طبقے کو بیروزگار کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ شرکاءکا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کے ڈرافٹ پر صوبے کے اکثریتی سٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کیا گیا ،

شرکاءنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی بقاءکیلئے جدوجہد سے دستبردار ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبے کی واحد صنعت کی سرپرستی کریں تاکہ بلوچستان کا حقیقی پرنٹ میڈیا بھی دیگر صوبوں کی طرح ترقی کرسکے ۔