پھولوں کے رنگدار زیورات
اس میں شک نہیں کہ خواتین پھولوں سے کچھ زیادہ ہی لگاو¿ رکھتی ہیں۔ایک خیال یہ ہے کہ خواتین نے سب سے پہلے پھولوں کو ہی اپنی آرائش و زیبائش کا ذریعہ بنایا ہو گا۔بہرحال یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی پھولوں کے زیورات بناو¿ سنگھار کا ایک حصہ رہے ہیں۔آج بھی پھولوں کے ہار‘ گجرے‘ جھمکے‘ کنگن خواتین میں بے حد مقبول ہیں۔
خاص طور پر شادی بیاہ کے مواقع پر مہندی کی تقریب کیلئے دلہن اور اس کی سکھیوں کا سنگھار تو پھولوں کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔پھولوں کے زیورات میں گجرے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔اگر پھولوں کے زیورات سے گجروں کو نفی کر دیا جائے تو باقی سنگھار کی ساری کشش دم توڑ جاتی ہے۔گجرے محبت کی علامت بھی ہیں‘ اس لئے یہ روایت بھی عام ہے کہ خوشی کی تقریب میں سکھیاں ایک دوسرے کو گجرے پہناتی ہیں۔
ایک وقت تھا جب خواتین گھر کے آنگن میں لگے گیندے‘ گلاب‘ موتیے یا چنبیلی کی کلیوں کو ایک ڈوری میں پرو کر گجرا بنا لیا کرتی تھیں مگر اب رنگدار پھولوں کے زیورات نے ایک مکمل آرٹ کی صورت اختیار کر لی ہے۔بازار میں اب نت نئے پھولوں کے زیورات آرڈر پر تیار کر کے دیئے جاتے ہیں۔خاص طور پر جب سے مہندی کی تقریبات زرد رنگ کی روایت سے منحرف ہونے لگی ہیں اور دلہن کا پہناوا اب نت‘ نئے رنگوں کی بہار دکھانے لگا ہے‘ ایسے میں کپڑوں سے میل کھاتے پھولوں کے رنگدار زیورات نے بھی خوب مقبولیت حاصل کی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پھولوں کی یہ بہار صرف سنگھار تک محدود ہے۔ماہرین کے مطابق پھول نہ صرف انسان کی طبیعت پر خوشگوار اثر ڈالتے ہیں بلکہ یہ صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔جدید تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مختلف پھولوں کی خوشبو انسانی جذبات کو تیزی و تندی سے بچا کر پرسکون رکھنے میں مدد دیتی ہے۔گلاب‘ بیلا‘ جوہی وغیرہ کے زیورات کی خوشبو نہ صرف فرحت بخش ہوتی ہے بلکہ ان کا مستقل استعمال موٹاپا کم کرنے میں بھی مددگار ہے۔
اسی طرح چمپا‘ چنبیلی‘ موگرے وغیرہ کے استعمال سے جسمانی کمزوری اور خون کی خرابیاں دور ہو جاتی ہیں اور دل بھی باغ باغ رہتا ہے۔یہی وہ پھول ہیں جن کا استعمال گجرے بنانے میں زیادہ کیا جاتا ہے۔یوں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ نازک کلائیوں کا یہ سنگھار صحت کیلئے بھی شاندار ہے۔