قومی خبریں

کورونا وبا ء،آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کی توقعات پرپورا اتریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے، کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرکے ہی ہم اس وباسے محفوظ رہ سکتے ہیں، موجودہ وبائی صورتحال میں عوام کی حفاظت کویقینی بنائیں گے،بحیثیت قوم ہمیں پہلے سے بھی زیادہ احتیاط اورمل کراجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا، پاک فوج آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کی توقعات پرپورا اترے گی۔ جب کہ پاک فوج نے انٹرنل سیکیورٹی الاﺅنس نہ لینے کافیصلہ کیاہے۔ ان خیالات کا ظہا ر ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران پاک فوج کی تعیناتی کے حوالے سے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔میجر جنرل بابرافتخار نے کہا آج کی اس بریفنگ کا مقصد کرونا کی تیسری لہر کے دوران پاکستان آرمی کی سول اداروں کی معاونت کیلئے تعیناتی کے حوالے سے آپ کو آگاہی دینا ہے۔ پاکستا ن میں اس وقت کرونا کی تیسری لہر جاری ہے جو کہ پہلی دونوں wavesسے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ پ±وری د±نیا اور بالخصوص ہمارا خِطہ اس وقت اس وَبا سے شدید متاثر ہورہا ہے۔ وَبا کی شِدّت اور تیز رفتار پھیلاو¿ کی وجہ سے اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انتہائی تشویشن ناک حالت میں مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ سے صحت کے نظام پر مسلسل دَباو¿ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا م±لک میں اس وقت آکسیجن کی کل پیداوار کا75 فیصد سے زائدصحت کے شعبے کیلئے مختص ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کرونا کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو انڈسٹری کیلئے مختص آکسیجن بھی صحت کے شعبے کیلئے وقف کرنا پڑ سکتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت کورونا کے 89,219 مریض موجود ہیں۔ مثبت شرح میں خطرناک حد تک بڑھ چ±کا ہے۔ ملک بھر میں 51شہروں میں مثبت کیسز کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ ہے۔ اسلام آباد کے علاوہ خیبر پختونخوا میں پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی ،پنجاب میں راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہٰ،سندھ میں کراچی اور حیدر آباد،بلوچستان میں کوئٹہ آزاد کشمیر میں مظفر آباد بالخصوص اس وَبا سے شدید متاثر ہواہے اور یہاںمثبت شرح بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان16شہروں میں پاکستان آرمی کی تعیناتی کی گئی ہے۔ 23اپریل کو(اب تک کی سب سے زیادہ اموات ہوئیں) جس دن157افراد کرونا کی وجہ سے اپنی زندگی سے محروم ہو گئے۔ اس وقت ملک بھر میں 570افراد وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ 4300کرونا سے متاثرہ افراد تشویشنا ک حالت میں ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا اپریل کے مہینے میں کرونا سے اموات کا اوسط تناسب سب سے زیادہ رہا ہے۔ 26فروری2020 سے آج تک 17,187افراد اس وَبا کی وجہ سے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ اس وقت د±نیا میں کرونا کی وجہ سے شرحِ اموات 2.12فیصد ہے جبکہ اس وَبا کے دوران پاکستان میں پہلی مربتہ د±نیا کے مقابلے میں شرحِ اموات بڑھ کر 2.16فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ 23اپریل کو وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا۔جس میں چیف آف آرمی سٹاف بھی موجود تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور باہمی رضا مندی سے این سی سی نے کرونا وَبا کی تیسری لہر پر قابو پانے کیلئے ایس اوپیز کے حوالے سے چند اہم اور بروقت فیصلے کئے جن سے آپ بخوبی آگاہ ہیں ۔ وبا ءکی بگڑتی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عوام کی حفاظت اور صحتِ عامہ کے تحفظ کیلئے وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق ملک بھر میں پاکستان آرمی کو آرٹیکل 245کے تحت سول اداروں کی معاونت کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا عوام کا اعتما د افواجِ پاکستان کا اثاثہ ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان آرمی اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی صحت اور حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام ا±ٹھائے گی اور م±لک کے طول و عرض میں ہر کونے تک پہنچ کر عوام کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔ کرونا وَبا کے خلاف حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد اور امن وامان کی صورتحال کی ب±نیادی ذمہ داری سول اداروں کی ہے۔ پاکستان آرمی ہنگامی بنیادوں پر ریسپانڈر کے طور پر دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھر پور معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہا آج صبح 6بجے سے ملک کے طول وعرض میں ہر ضلع کی سطح پر آرمی ٹروپس سول اداروں کی مدد کیلئے پہنچ چکے ہیں۔ آرٹیکل245کے تحت ملک بھر میں ہرڈویژن ایڈمنسٹریٹو کی سطح پر ایک ٹیم تعینات کر دی گئی ہے۔ جس کی سربراہی بریگیڈئیر رینک کے آفیسر کریں گے۔ ۔ ہرضلع کی سطح پر لیفٹیننٹ کرنل کی سربراہی میں آرمی ٹروپس سول انتظامیہ کی مدد کرینگے۔ پاکستان آرمی ٹروپس کی تعیناتی کا بنیادی مقصد سول حکومت اورLEAs کی کی معاونت ہے۔ پاکستان آرمی نے اس تعیناتی کے دوران بھی پچھلی مرتبہ کی طرح کسی قسم کا انٹرنل سیکورٹی الاو¿نس وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہناتھا تمام صوبائی ایپکس کمیٹیوں کی میٹنگ ہفتے میں ایک روز ہو گی جس میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، خاص کرمثبت کیسز کی شرح میں اضافے والے ایریاز کا بالخصوص جائزہ لیا جائے گا۔ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ہی اس وَبا کے خلاف ایک موثر جواب ہے۔ ہم سب کو مل کر اِنفرادی او ر اجتماعی طور پر اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہو گا تاکہ عوام کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا فیس ماسک کا استعمال، سماجی رابطوں اورسماجی فاصلوں کے حوالے سے حفاظتی گائیڈ لائن پر عمل کر کے ہی ہم اس وَبا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمیں احساس اور نظم و ضبط کا دَرس دیتا ہے۔ گھروں میں، مساجد میں اور باقی تمام جگہوں پر حفاظتی تدابیر کو یقینی بنا کر ہم ایک دوسرے کی مشکلات کا مداوا کر سکتے ہیں۔ اس وبا کے آغاز سے اب تک عوام کے تعاون او ر احساسِ ذمہ داری نے ہمیں دیگر ملکوں کے مقابلے میں اس وبا کے انتہائی خطرناک نقصانات سے محفوظ رکھا اور اب بھی بحیثیت قوم ہمیں اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ رمضان المبارک کے اس مہینے میں اپنے ارد گرد لوگوں کا احساس کریں۔ اللہ تعالیٰ سے د±عا ہے کہ سب کو اس وَبا سے محفوظ رکھے۔ وہ تمام لوگ جو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دوسروں کی زندگیاں بچانے میں مصروف ہیں، اللہ تعالیٰ ا±ن کی کاوشوں کو کامیاب کرے۔ آمین