ملک دیوالیہ اور خزانہ خالی ملا ، اب مثبت سمیت میں گامزن ہیں ، عمران خان
ملتان:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج ہم نے وہ قدم اٹھایا جو ثابت کرے گا کہ ہم جدید زراعت کی جانب جارہے ہیں، آج اجرا ہونے والا کسان کارڈ پاکستان کو تبدیل کردے گا۔ہم جدید زراعت کی جانب بڑھ رہے ہیں، کسان جتنا مضبوط ہوگا معیشت اتنی مضبوط ہوگی۔ہمارے کسان آج بھی موئن جو دڑو والے طریقوں اپر عمل کررہے ہیں، کسان کارڈ کے اجرا سے ماڈرن ایگریکلچرکی طرف جارہے ہیں،خوشی ہے کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ملتان میں کاشت کاروں کے لیے کسان کارڈ کے اجرا کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزےراعظم کاکہنا تھا کہ کسان پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسے کتنا مضبوط کریں گے، اتنا ہم اپنے ملک کو مضبوط کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی کی طرف جاتے رہیں گے کرپشن نیچے آتی رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ صرف ہمارے دور میں کسانوں کے لیے گندم کی امدادی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں کسانوں کے پاس 500 ارب روپیہ آیا۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ملنے والے گندم، مونگی، مکئی اور دودھ کی قیمت سے کسانوں کے پاس اضافی 11 سو ارب روپے کسانوں کے پاس گئے ہیں، سب سے زیادہ غربت دیہاتوں میں ہے اور اس طرح ہم تخفیف غربت کے ہدف کی جانب بڑھ رہے ہیں، 12 سو ارب روپے دیہاتی علاقوں میں جانے کا مقصد ہے کہ وہاں حالات بہتر ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کسان کارڈ پر ایک ہزار کی ڈی ایل پی پر سبسڈی دی جائے گی جس میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر بھی سبسڈی ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس کسان کارڈ کے ذریعے ہم قرضے بھی دے سکیں گے اور جب قدرتی آفات کے سبب فصل تباہ ہوجاتی ہے تو ان کی بھی اس کارڈ کے ذریعے مدد کی جائے گی۔وزیراعظم نے بتایا کہ پانی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پیداوار متاثر ہوتی ہے اس کے لیے 50 سال بعد 2 بڑے ڈیمز تعمیر کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کے لیے اضافی پانی آئے گا، اس کے علاوہ چھوٹے ڈیمز اور نہریں بھی بنائی جارہی ہیں۔،ہمارے 30 ارب روپے کے ٹرانسفارمیشن پلان میں 200 ارب روپے صرف نہریں پکی کرنے کے لیے مختص ہیں، وزیراعظم نے کہاکہ پانی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پیداوار متاثر ہوتی ہے اس کے لیے 50 سال بعد 2 بڑے ڈیمز تعمیر کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کے لیے اضافی پانی آئے گا، اس کے علاوہ چھوٹے ڈیمز اور نہریں بھی بنائی جارہی ہیں، ہمارے 30 ارب روپے کے ٹرانسفارمیشن پلان میں 200 ارب روپے صرف نہریں پکی کرنے کے لیے مختص ہیں، چین کے ساتھ بات کر کے زراعت کو سی پیک میں شامل کردیا ہے کیوں کہ وہاں ہم سے کہیں زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے اس لیے ہم ان کے تجربوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ‘ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی بہترین زرعی تحقیقاتی ادارے جو توجہ نہ ملنے کی وجہ سے نیچے چلے گئے تھے ان کی تجدید کی جارہی ہے اور دال، تیل کے بیج، سویابین، اسپغول ہم اب پاکستان میں اگانے کی کوشش کررہے ہیں کیوں کہ انہیں ہم باہر سے درآمد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں زیادہ تر علاقہ پیداوار کے لیے موافق درجہ حرارت یعنی 15 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے، اس کا مطلب ہم کچھ بھی اگا سکتے ہیں، ہم اللہ کی نعمتوں کا بہت زیادہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں کہ ہمیں کوئی چیز درآمد کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے کسان آج بھی وہی طریقہ کار استعمال کررہے ہیں جو موئن جو دڑو میں 5 ہزار سال پہلے رائج تھے، نئی چیزیں نہیں سوچی گئیں اس لیے ایکسٹینشن سروسز کو نجی اداروں کو دینے والے ہیں کیوں کہ حکومتی ایکسٹینشن سروسز نے بالکل ڈیلیور نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس لیے نجی شعبے کو لے کر آئیں گے ایکسٹینشنل سروسز کا مطلب یہ کہ ایک مقررہ فرد اپنے متعلقہ علاقے میں کسانوں کے پاس جا کر انہیں نئی تکنیکیں بتائے گا جس کی بہت ضرورت ہے، ہماری زراعت بنیادی سطح کی ہے 96 سے 97 فیصد کسان چھوٹے کسان ہیں وہ اپنی ذات کے لیے پیداوار اگاتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ایکسٹینشنل سروس کے ذریعے انہیں تربیت دی جائے گی کہ وہ اپنی پیداوار بڑھا سکیں تا کہ اپنے لیے رکھنے کے علاوہ فروخت بھی کریں اور خوشحال ہوسکیں ،انہوں نے کہا کہ دنیا میں ساتویں یا آٹھویں نمبر پر گائیں بھینسیں پاکستان میں ہیں لیکن ہم ابھی بھی دودھ درآمد کرتے ہیں کیوں کہ ہماری پیداوار کم ہے اور ان مویشیوں کی نسلیں بہتر بنانے کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے ایک سے 2 سال میں تبدیلی آجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ نسلیں ٹھیک کر کے پیداوار میں اضافہ کر کے ہم اپنے لوگوں کو نہ صرف کم قیمت میں دودھ بیچ سکیں گے بلکہ پنیر وغیرہ برآمد بھی کرسکیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم مویشیوں کی پیداوار 3 گنا زیادہ کرسکیں تو اگلے 3 سالوں میں 25 ارب ڈالر صرف دودھ اور چیز کی برآمد سے کما سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سبزیوں اور پھلوں کے نقصانات 50 فیصد ہیں جبکہ اناج میں ہونے والے نقصانات 20 فیصد ہیں اگر گندم کی پوری پیداوار میں سے 20 فیصد گندم ضائع ہوجائے تو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے جبکہ اگر نصف پھل اور سبزیاں نہ ضائع ہوں تو ہم کتنا سستا پھل اور سبزیاں اپنے لوگوں کو دے سکیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اسٹوریج اور فوڈ پروسیسنگ پلانٹ تیار کیا جائے گا جو ہمیں نقصانات سے بچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے قرضے دگنے کردیے جائیں گے تاکہ ان کے پاس اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے مزید پیسا آئے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فرانس میں توہین رسالت پر ایک جماعت نے حکومت کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر کہا فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجو، نبیﷺ کی شان میں گستاخی پر ہر مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے، ملک میں 100 سال بھی توڑپھوڑ سے یورپ میں توہین رسالت ختم نہیں ہوگی، میاں شہباز شریف اور عثمان بزدار کے کاموں کا موازنہ کیا جائے، ڈھائی سال پہلے بالی ووڈ کا ایکٹر پانی میں بوٹ پہن کر کھڑا ہوتا تھااور اس نے اربوں روپے تشہیری مہم پر خرچ کیے۔ملتان میں ایک تقریب سے خطاب میں انہو ںنے کہا کہ عثمان بزدار کی ڈھائی سالہ کارکردگی گزشتہ ادوار سے بہتر ہے افسوس کسی نے عثمان بزدار کی کا رکردگی کا جائزہ نہیں لیا ۔ پاکستان میں چھوٹا سا طبقہ عوام کا خون چوس رہا تھا سیاست میں آنے کا مقصد غریب طبقے کی فلا ح کےلئے کا م کر نا تھا ۔ ما ضی کے حکمرانوں نے لندن کے مہنگے علاقوں میں انہوں نے بڑے محلات بنائے۔ لوگوں کو کہتے ہیں پیسہ لے کر آو¿، اپنا پیسہ باہر لے گئے۔عمران خان نے کہا کہ طاقتور اپنے علاقوں میں پیسہ خرچ کرتے ہیںماضی کے حکمرانوں نے سرمایہ کاری باہر سیاست پاکستان میں کی تاہم عثمان بزدار کے دل میں غریبوں کیلئے درد ہے مجھے ایسا وزیراعلیٰ چاہیے تھا جو لوگوں کے دکھ اور درد کو سمجھے مجھے وہ آدمی چاہیے تھا جس کا پاکستان کیلئے جینا مرنا ہو۔پنجاب میں غریبوں کی بہتری کیلئے اقدام اٹھائے جا رہے ہیں۔ پنجاب کے ہر خاندان کو دسمبر تک ہیلتھ کارڈ دینے کا ہدف ہے۔ ہیلتھ کارڈ سے غریب خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ کسان کارڈ سے براہ راست 97 فیصد کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ چھوٹے کسان کی مدد کریں گے تو ملک میں خوشحالی آئے گی کسان کا رڈ کے ذریعے سستی کھاداور دیگر سہو لیا ت میسر آئیں گی کیو نکہ پا کستان میں 97فیصد چھوٹا کاشتکار ہے عالمی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں غربت کم ہوئی ہے۔ جنوبی پنجاب پیچھے رہ گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کو آبادی کے مطابق نوکریوں کا کوٹہ ملے گا۔ جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ بنے گا ترمیم کی طرف جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک طریقہ ٹی ایل پی کا ہے کہ اسلام آباد پر دھاوا بول کر، مظاہرے اور توڑ پھوڑ کرکے حکومت پر سفیر کو نکالنے کے لیے دباو¿ ڈالو، لیکن کیا اس سے یورپ اور فرانس میں توہین رسالت رک جائے گی، میں لکھ کر دیتا ہوں 100 سال بھی ایسا کرتے رہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ آزادی اظہار رائے کے نام پر توہین رسالت کے واقعات اور بڑھیں گے۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں بھی توہین رسالت پر تکلیف ہوتی ہے اور ہمارا مقصد ایک ہی ہے تاہم اسے ختم کرنے کے لیے میرا اور میری حکومت کا طریقہ دوسرا ہے اور میرا ہی طریقہ کامیاب ہوگا، ہم دنیا کے تمام مسلمان ممالک کے سربراہان کو اکٹھا کرکے بات چیت کررہے ہیں، حال ہی میں شاہ محمود نے 4 ممالک سے بات کی ہے جو اس پر متفق ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم عالم اسلام کو اکٹھا کریں گے اور مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل لے کر یورپ سے کہیں گے کہ آزادی اظہار کے نام پر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں دے سکتے، جس طرح آپ یہودیوں کو تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے اور ہولوکاسٹ پر کوئی منفی بات نہیں کی جاسکتی، جس پر یورپی ممالک میں قید کی سزا ہے، تو کیا ہم 50 مسلمان ممالک مل کر یورپ کو سمجھا نہیں سکتے کہ آزادی اظہار رائے ضرور استعمال کریں لیکن نبیﷺ کی شان میں گستاخی نہیں کی جاسکتی اور اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم سب آپ کا تجارتی بائیکاٹ کردیں گے، اس طریقے سے فرق پڑے گا اور ہم کامیاب ہوں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ میری حکومت اس راستےپر لگی ہوئی ہے، اپنے 5 سال پورے ہونے سے پہلے قوم کو خوش خبری دوں گا کہ ان ممالک میں ہمارا پیغام پہنچ چکا ہوگا اور پھر کبھی وہاں توہین رسالت نہیں ہوگی، اس طریقے سے ہم کامیاب ہوں گے۔