امید ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ، کسی کو بھی امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے، کور کمانڈر کانفرنس
راولپنڈی:عسکری قیادت نے افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں فائرنگ اور دہشت گردی کا نوٹس سخت نوٹس لیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی ، کسی کو بھی امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے،عسکری قیادت کورونا وباءکی روک تھام کے لئے سول حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ساتھ ا س بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ وباءکا پھیلاﺅ اور اثرات میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ترجمان افواج پاکستان کے مطابق کور کمانڈ کانفرنس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں ہوئی جس میں تمام کور کمانڈرز اور پرنسپل سٹاف نے شرکت کی ۔شرکا ءنے عالمی ،علاقائی اور داخلی سلامتی کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا ،خصوصی طور پر لائن آف کنٹرول ،ورکنگ باﺅنڈری اور پاک افغان سرحدی صورت حال زیر بحث آئی ،فورم کو بتایا گیا کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایک ناگزیر حکمت عملی اور آپریشنل اقدامات اٹھائے گئے ہیں ،آرمی چیف نے ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لئے افواج پاکستان کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اظہار اطمینان کیا ۔کور کمانڈرز نے افغان امن عمل کے حوالے سے ہونے والی حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور سکیورٹی پر اثرات خاص طور پر پاک افغان سرحدی سکیورٹی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ۔کور کمانڈرز نے علاقائی امن اور استحکام کے لئے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا تاہم ساتھ ہی افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کا سخت نوٹس لیا گیا ،سرحد پار دہشت گردوں کی قیادت کی ری گروپنگ کا معاملہ زیر بحث آیا اور شرکاءنے امید ظاہر کی کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی ۔موجودہ علاقائی ،سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں پاکستان نے بارڈر کنٹرول اور مینجمنٹ سے متعلق تمام اقدامات اٹھائے ہیں اور ہم افغانستان سے بھی امید کرتے ہیں کہ وہ بھی کسی کو بھی امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔کور کمانڈرز نے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ضم ہونے والے نئے اضلاع میں سماجی و معاشی ترقی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ،آرمی چیف نے کہا کہ بڑی مشکل سے جو امن حاصل کیا گیا ہے اس سے پائیدار استحکام آئیگا۔شرکاءنے کورونا وباءکی تیسری لہر پر قابو پانے کے لئے سول حکومت کی ہر ممکن مدد کے عزم کو بھی دوہرایا اور اس بات کا اطمینان ظاہر کیا کہ کورونا وباءکے پھیلاﺅ میں کمی آئی ہے اور اس کے اثرات کو بھی کنٹرول کیا جارہا ہے ۔