قومی خبریں

9 مئی ملکی تاریخ کا سیاہ دن ہے،شہبازشریف

لاہور: وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ 9 مئی ملکی تاریخ کا سیاہ دن ہے ، فوجی تنصیبات پر حملوں کے کیس قانون کے مطابق فوجی عدالتوں میں چلیں گے، کسی بے گناہ سے زیادتی نہیں ہوگی لیکن کوئی مجرم بچ نہیں پائے گا،عمران نیازی نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے ملک کو بہت نقصان پہنچایا،اس کی مثال نہیں ملتی، ملک، قوم اور سب ادارے ہمارے ہیں، اس لیے ان میں دراڑیں ڈالنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے،وزیراعظم نے ہدایت دی کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں، مہنگائی کے اس دور میں غریب کو بڑے ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تفصیل کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی ،وفاقی وزراءاعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک،معاون خصوصی عطا تارڑ اورخواجہ سیلمان رفیق سمیت دیگر ن لیگی رہنما ﺅں کے علاوہ سکیورٹی حکام ، شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورت حال، معاشی پالیسی سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم نے لیگل ٹیم سے سپریم کورٹ میں جاری مقدمات سے متعلق تفصیلی مشاورت کی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کو سپریم کورٹ میں جاری مقدمات سے متعلق بریفنگ بھی دی، اجلاس میں لیک آڈیوز سے متعلق تشکیل دیئے گئے جوڈیشل کمیشن کے بارے میں بھی معاملات زیر غور آئے۔اجلاس میں وزیراعظم کو 9 مئی میں ملوث تمام کرداروں کی قانونی گرفت کے لیے اب تک کے اقدامات، گرفتاریوں، قانونی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں آڈیو لیکس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ،اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن آڈیوز کی حقیقت جاننے کے لیے ان کا فارنزک آڈٹ کرواسکتا ہے، اعلیٰ عدالتوں پر عوام کا اعتماد بنیادی چیز ہے، ججوں کی ساکھ پر کوئی آنچ آئے تو انگلیاں اٹھتی ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کابینہ نے کمیشن آف انکوائریز ایکٹ 2017ءکے تحت آڈیو لیکس کمیشن قائم کیا، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، عمران نیازی نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے ملک کو بہت نقصان پہنچایا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس دن پاکستان کے لبادے میں دہشت گردی کی گئی، عمران نیازی کے حکم پر ان کے جتھوں نے ملک دشمنی کی اور بدقسمتی سے وہ کام کردکھایا جو 75 برس میں دشمن نہ کر سکا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کالعدم تحریک طالبان نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا تھا، اس ملک کی بدقسمتی دیکھیں کہ ان ’پاکستانی نما دشمنوں‘ نے بھی جی ایچ کیو پر حملہ کیا، ریڈیو پاکستان کو جلادیا، ایف سی اسکول میں توڑ پھوڑ کی۔ ،لاہور میں قائد اعظم ہاو¿س کو جلایا جو کہ کمانڈر ہاو¿س بن چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس دن (9 مئی) کو بے شمار ایسے ہولناک واقعات ہوئے تھے جو ہمشیہ کے لیے پوری قوم کو ذہنی کوفت میں مبتلا رکھیں گے، لہٰذا یہ طے ہوا تھا کہ کسی شخص کو، چاہے وہ منصوبہ بندی میں شامل ہے، اکسانے میں شامل ہے، چاہے اس نے غلیظ گالیاں دیں اور نعرے لگوائے اور چاہے وہ توڑ پھوڑ میں شامل تھا، کوئی بھی قانون کے آہنی ہاتھوں سے بچ نہیں سکتا۔ اکسانے، نعرے لگانے اور توڑ پھوڑ میں ملوث کوئی شخص نہیں بچے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ این اے سی کے اجلاس میں طے ہوا تھا کہ سولین تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے ملوث تمام افراد پرانسداد دہشت گردی ایکٹ میں مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے والوں پر آئین کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بات کوئی مذاق نہیں ہے کہ دہشت گرد کراچی میں ایئرفورس کی تنصیبات پر حملہ کریں اور اربوں روپے کے املاک کو نقصان پہنچائیں اور عمران نیازی کے جتھے میانوالی میں پہنچ جائیں اور دشمن کے خلاف استعمال کرنے کے لیے قوم کی خون پسینے کی کمائی سے خریدے گئے ہوائی جہازوں کو آگ لگانے کی منحوس کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہم نے باقاعدہ فیصلہ کیا تھا، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں بھی کچھ واقعات ہوئے، آج اکٹھے ہونے کا مقصد اس پر کی گئی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے، ہم نے پنجاب کی نگران حکومت کو گزارش کی تھی کہ اس معاملے میں ذمہ داریاں ادا کریں۔ وزیر اعظم نے کہا 9 مئی کے واقعات ہمیں ذہنی کوفت میں مبتلا رکھیں گے،اس دن کو ملکی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ شہباز شریف نے وزرا ءکو ہدایت دی کہ ملک و قوم کو اکٹھا کرنے، حالات بہتر بنانے، اداروں اور عوام میں اعتماد کی فضا برقرار کرنے کے لیے خوب محنت کریں، ملک، قوم اور سب ادارے ہمارے ہیں، اس لیے ان میں دراڑیں ڈالنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔شہباز شریف نے ہدایت دی کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں، مہنگائی کے اس دور میں غریب کو بڑے ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔