تجارتی خبریں

ادارہ شماریات کا ملک میں مہنگائی 16 ماہ کی کم ترین سطح پر آ جانے کا دعوٰی

لاہور: ادارہ شماریات کا ملک میں مہنگائی 16 ماہ کی کم ترین سطح پر آ جانے کا دعوٰی، فروری 2024 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 23.1 فیصد پر آ گئی جو کہ نومبر 2022ئ کے بعد کم ترین شرح ہے۔ تفصیلات کے مطابق ادارہ شماریات نے فروری 2024ء میں مہنگائی بارے رپورٹ جاری کر دی۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق فروری میں مہنگائی 16 ماہ کی کم ترین سطح 23.1 فیصد رہی ہے، جس سے سٹیٹ بینک کیلئے شرح سود میں کمی کرنے کی راہ بھی پیدا ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق فروری میں مہنگائی میں کمی کی شرح مارکیٹ اور حکومت دونوں کی توقعات کے برعکس رہی، وزارت خزانہ نے فروری میں مہنگائی کی شرح 24.5 سے 25.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ادارہ شماریات کے مطابق غذائی اشیا اور غیر غذائی اشیا سمیت مہنگائی کے بنیادی انڈیکیٹرز میں نمایاں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اب مہنگائی میں کمی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح کم ہو کر 23.1 فیصد پر آ گئی ہے جو کہ نومبر 2022ئ کے بعد کم ترین شرح ہے، اس وقت مہنگائی کی شرح 23.8 فیصد رہی تھی۔ دوسری جانب ہفتہ وار مہنگائی کی شرح ساڑھے 32 فیصد سے اوپر چلی گئی۔ ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی 1.27 فیصد اضافے سے 32.73 فیصد ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق 14اشیائےضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کی گیا ہے جبکہ 12کےنرخوں میں کمی ہوئی۔ گزشتہ ہفتے میںپیاز،انڈے،چائے،ا?لو،لہسن،بیف،دال مونگ،کیلےاورگیس مہنگی ہوئی ٹماٹر،دال ماش، مسور، کوکنگ آ ئل،گھی، بریڈ، گ±ڑ،ایل پی جی سستی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے25اشیائےضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ سالانہ بنیاد پرٹماٹر 167فیصد،سرخ مرچ82 فیصد ، آ ٹا 63.51 فیصد، چینی 49.52فیصد، گ±ڑ 45.52فیصد، لہسن کی قیمت43فیصدتک بڑھ گئی۔ایک سال میں نمک 39فیصد، چائے31 فیصد ، کپڑے 33 فیصد مہنگے ہوئے، سالانہ بنیاد پر گیس چارجز میں 570 فیصد تک اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال کی نسبت گھی 19 فیصد اور کوکنگ آ ئل 15.28 فیصد سستاہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کر دہ رپورٹ کے مطابق فروری 2024میں مہنگائی کی شرح 23 فیصد رہی جبکہ فروری 2023میں مہنگائی 26 فیصد تھی،رواں مالی سال جولائی تافروری مہنگائی کی اوسط شرح 28 فیصدسےتجاوز کر گئی۔شہری علاقوں میں مہنگائی 24.9فیصد اوردیہی علاقوں میں 20.5فیصد رہی۔ ایک سال میں ٹماٹر114فیصد، سگریٹس70فیصد، چینی53فیصد، گڑ46فیصد ، آٹا 45فیصد، مشروبات40فیصد، چائے 32فیصد، دال ماش29فیصد ، مٹھائی 24فیصد، آلو 22فیصد، خشک دودھ22فیصد، دال مسور21فیصد مہنگے ہوئے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال میں گیس بل 319فیصد، بجلی 75فیصد، ٹرانسپورٹ سروسز کے نرخ35فیصد بڑھ گئے۔ نصابی کتب 35فیصد، اخبارات34فیصد، گھروں کے کرائے29فیصد، سٹیشنری 28فیصد مہنگے ہوئی۔