سویڈن حکومت قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کا بھرپورنوٹس لے اور فی الفور مجرموں کیخلاف بلاتاخیر کارروائی کی جائے،وزیراعظم کا مطالبہ
اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سویڈن حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات ،بیانیہ کا بھرپورنوٹس لے اور فی الفور مجرموں کیخلاف بلاتاخیر کارروائی کی جائے،ہم اپنی حکومت کی بقیہ مدت میں پاکستان میں بہتری لانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ وفاقی کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل وکرم سے عید الاضحی کی بدولت پاکستان ترقی کرے گا آپ کی محنت رنگ لائے گی اور انشاءاللہ اور جن مسائل اور چیلنجز سے پچھلے چودہ پندرہ ماہ سے سامنا ہے اس میں بقیہ مدت کے دوران کم کرنے کی کوشش کرینگے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ سویڈن میں جو واقعہ پیش آیا ہے اس پر حکومت پاکستان عوام اور پوری امت مسلمہ بھرپور اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ فی الفور ملزمان کیخلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی دلخراش واقعات رونما ہوچکے ہیں اس سے بات ثابت ہوگئی ہے کہ سویڈن میں جو مسلمان بستے ہیں جو اقلیت میں ہیں ان کیخلاف نفرت کا جو بیانیہ بنایا گیا ہے جو تفر یق کا اس کو پاکستان کی حکومت بھرپور مذمت کرتی ہے اور سویڈن حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس بیانیہ کا فوری نوٹس لے اور اس بات کا اطمینا ن ہے کہ او آئی سی نے اس بارے ہنگامی اجلاس بلایا اور اس اجلاس میں اس قبیح حرکت کی بھرپور مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا کہ نہ صرف ملزمان کیخلاف بھرپو ر تادیبی کارروائی کی جائے بلکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہونی چاہیے پاکستانی حکومت او آئی سی کے فیصلے کی بھرپور تائید کرتی ہے اور ہمارا سویڈن حکومت سے مطالبہ ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے ہم اپنی وزارت خارجہ کے ذریعے اس معاملے کو اٹھائینگے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سے آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری ڈیل ایک منطقی انجام کو پہنچی اور9ماہ کا سٹینڈ بائی معاہدہ طے پاگیا ہے اس کیلئے میں اپنی کابینہ کے تمام ممبران اور خاص کر فنانس منسٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو اور متعلقہ وزارتوں کو اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ شبانہ روز محنت کے بعد اللہ نے اپنا کرم فرمایا اور آئی ایم ایف کے ساتھ نو مہینے کا ایگریمنٹ ہوا جو تین ارب ڈالر پاکستان کو ملیں گئے اور پہلی قسط جولائی میں 1.1ارب ڈالر کی ہوگی اس کیلئے اسحاق ڈار نے بہت محنت کی ہے اس طریقے سے ہمارے وزیر خارجہ نے سفارتی سطح پر بہت محنت کی ہے اور میں اس کا گواہ ہوں ان کی کاوشیں اس حوالے سے بڑی قیمتی ہیں اور گزشتہ روز مجھے میسج ملا بلاول بھٹو کی جانب سے کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے اس حوالے سے پوچھا ہے کہ پاکستان کو اس حوالے سے مزید مدد چاہیے تو میں حاضر ہوں میں آئی ایم ایف کی سیکرٹری کرسٹینا جیوا اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اسحاق ڈار سے پوچھا تو انہوں نے بتایا سارے کام ہوچکے ہیں کاغذی کارروائی باقی ہے میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس معاہدے سے قبل تین چار ماہ قبل چین نے جو ہماری مدد کی ہے اس پر ان کے شکر گزار ہیں اور ان کے کمرشل بینکوں کے جو قرض تھے وہ ہم نے وقت سے پہلے ادا کردیئے ہیں یہ اپنی نوعیت کے ایک بڑی تاریخ ہے میں پوری پاکستانی قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ماضی میں بھی چین نے بے پناہ مدد کی ہے آپ سب اس سے بخوبی آگاہ ہیں اور اب بھی5 ارب ڈالر آئی ایم ایف سے ڈیل سے قبل رول اور ملا جو ہمیں ملے اس سے بہت بڑا ریلیف ملا ہے اس کے بعد سعودی عرب نے دو ارب ڈالر کا ریلیف دیا ہے اس پر ان کا شکر گزار ہوں سعودی عرب نے ہمیشہ اچھے برے وقت میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا ہے اس حوالے سے یو اے ای کی صدر نے بھی مہربانی کی میرے ساتھ وفاقی وزراءموجود تھے تو یو اے ای کے صدر نے بھی اس حوالے سے ہماری بھرپور مدد کی ہے اور اسلامی ترقیاتی بینک نے ایک ارب ڈالر کی رقم فوری ادا کردی ۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر میں اس میں اس بات کا ذکر نہ کروں تو داستان ادھوری رہے گی کہ سعودی عرب سے دو ارب ڈالر لانے میں جو اہم کردار تھا اس میں ہمارے سپہ سالانہ جنرل عاصم منیر کا بھی اہم کردار ہے اور یہ پاکستان کے تمام اداروں نے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کیلئے مل کر کام کرکے مثال قائم کی ہے اور میں آئندہ بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر اسی طرح ملک کی ترقی کیلئے کام کرینگے تو ملک ضرور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا میں آخری میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ملک کیلئے قربانی اور ایثار کا راستہ اپناتے ہوئے دن رات ایک کردینا چاہیے اور میں اپنے ملک کے تمام تاجروں اور صنعتکاروں سے بھی کہوں گا کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہمارا ساتھ دیں اللہ کبھی بھی کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا میں اپنی کابینہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری بہت مدد اور معاونت کی اللہ کرے یہ ہماری آئی ایم ایف سے آخری ڈیل ہو اور دوبارہ میں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے ۔