پاکستان میں طالبان کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں،وزیر خارجہ
استنبول:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال کیا ہے، افغانستان میں موجودہ صورت حال کا ذمہ دار پاکستان نہیں ، پاکستان ایک خود مختار، جمہوری اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان میں طالبان کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں ۔ افغان ٹی وی ‘طلوع’ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد سیاسی صورتحال، افغان مفاہمتی عمل اور اس میں پاکستان کے کردار پر بات کی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کابل کی سرزمین کو پاکستان میں شر انگیزی کے لیے استعمال کرنے پر سخت تکلیف ہوتی ہے۔ وزیر خارجہ نے اس امر کی تردید کی کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں کارروائیوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال ہوگی۔پاک افغان تعلقات کے حوالے سے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک خود مختار، جمہوری اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت جو صورت حال ہے اس کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان میں طالبان کے ٹھکانوں کی موجودگی کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت کی جڑیں افغانستان میں ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انٹرویو کے دوران افغانستان کے ساتھ شراکت کے لیے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم امن کے لیے شراکت داری پر یقین رکھتے ہیں’۔ انہوں نے خطے میں امریکی افواج کی واپسی اور انتظامی امور پر افغان دھڑوں میں اختلاف کی بنیاد پر دوبارہ خانہ جنگی کے امکان کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن کی شراکت داری کے لیے تیار ہیں اور توقع ہے کہ لینڈلاک ملک میں ایک اور خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پرامن، محفوظ اور مستحکم افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے واحد راستہ افغانوں میں مفاہمت، بقائے باہمی اور بات چیت ہے۔انہوں نے افغانستان میں مستقل بنیادوں پر امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام افغان رہنماو¿ں کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ ہم افغانستان میں امن اور اس کے استحکام کے خواہاں ہیں اور سمجھتے ہیں اس طرح علاقائی روابط کو فروغ ملے اور دونوں ممالک کے لیے معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اقتصادی سلامتی، سرمایہ کاری، دوطرفہ اور علاقائی تجارت، امن اور استحکام نہ صرف افغانستان بلکہ ہماری بھی خواہش ہے اور یہ ہمارے لیے بھی ناگزیر ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ عالمی برادری افغان مسئلہ کے دیرپا سیاسی حل کے لیے کاوشیں تیز کرے۔ مہاجرین کے میزبان ممالک کی ذمہ داریاں بانٹنا ہوں گی۔پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔عالمی یوم پناہ گزین پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان آج کے دن کے مناسبت سے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے، کورونا وباءکے باعث عوامی صحت، سماجی و معاشی چیلنجز کے پس منظر میں یہ دن منایا جا رہا ہے، موجودہ چیلنجز نے بوجہ تشدد اور تنازعات، بے گھر افراد کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں تنازعات کے شکار امور کا جائزہ لے کر تنازعات کی روک تھام کا پیغام دیتا ہے، ہمیں امن میں سرمایہ کاری، تنازعات کو روکنے، حل کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے، ہمیں مہاجرین کے تحفظ کے لئے مشترکہ عزم کا اعادہ کرنا ہو گا، ہمیں فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہاجرین کے میزبان ممالک کی ذمہ داریاں بانٹنا ہوں گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ پناہ گزینوں کا بھرپور تحفظ کرکے مثال قائم کی، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، آج بھی 30 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو ہر ممکن تحفظ فراہم کر رہے ہیں، ہماری قوم نے مہاجرین سے سخاوت، یکجہتی، ہمدردی کی مثالی اقدار کا مظاہرہ کیا، اس ملک نے مہاجرین کی صحت تعلیم اور معاش بارے میں جامع پالیسیاں دیں اور کورونا وبائ کے دوران بھی مہاجرین کا ہر ممکن خیال رکھا، جب کہ عوام نے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کرکے منصفانہ انداز میں عالمی ذمہ داری نبھائیں، کورونا وبائ کے سماجی و اقتصادی چیلنج میں مہاجرین کی مدد کرنا ہو گی، مہاجرین کے میزبان ترقی پذیر ممالک کو عالمی سیاسی و مالی مدد درکار ہے۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن کے لیے بھی کلیدی سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ عالمی برادری افغان مسئلہ کے دیرپا سیاسی حل کے لیے کاوشیں تیز کرے، عالمی برادری کی معاونت افغان مہاجرین کی باوقار، بروقت وطن واپسی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔