قومی خبریں

ملک بھر میں منصوبہ بندی کے تحت جلاو گھیراو کیا گیا،عمران خان فتنے ذمہ دار ہے، وزیر داخلہ

اسلام آباد:وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک میں جو دہشت گردی ہوئی ہے وہ عمران خان فتنے نے کروائی ہے، ملک بھر میں منصوبہ بندی کے تحت جلاو¿ گھیراو¿ کیا گیا، جس شخص نے قومی خزانے میں 60ارب کا ڈاکا ڈالا وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے سوال پوچھے اور نہ کوئی گرفتار کرے،جب سپریم کورٹ میں آتا ہے تو ویلکم کیا جاتا ہے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جاتا ہے اور اگلے دن ان نیک خواہشات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے دیکھا گیا،پی ڈی ایم سربراہ سے آج احتجاج ریڈزون سے باہر کرنے کی درخواست کی ہے ، احتجاج سے متعلق دفاعی اداروں کی اطلاعات بہت الارمنگ ہے، عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے فتنے کو مائنس کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک بھر میں منصوبہ بندی سے جلاو¿ گھیراو¿ کیا گیا، ملک میں جو دہشت گردی ہوئی ہے وہ اس فتنے نے کروائی ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہم کہتے رہے ہیں کہ یہ ایک فتنا ہے اس کا ادراک نہ کیا گیا تو یہ ملک کو کسی حادثے سے دوچار کردے گا اور اب اس فتنے کو موقع ملا تو اس نے ملک و قوم کو حادثے سے دوچار کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں تو اس شخص کا ادراک تھا لیکن کچھ لوگ اس بات کو اس سچائی کے ساتھ نہیں سمجھ رہے تھے جو ان تین دنوں میں ساری چیزیں سامنے آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر کی شناخت کی جارہی ہے جہاں جہاں انہوں نے آگ لگائی ہے ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ آپ (عمران خان) نے جو کچھ کیا ہے اس کا حال تو یہ ہونا چاہیے کہ آپ کی فتنہ پرور جماعت کو کالعدم قرار دیا جائے، مگر یہ ایک قانونی مرحلہ ہے جس میں آگے جاکر چیزیں سامنے آئیں گی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان نے اعترافِ جرم کیا ہے کہ 60 ارب روپے میرے طریقہ کار سے سپریم کورٹ کے اکاو¿نٹ میں آئے، وہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاو¿نٹ میں نہیں بلکہ بزنس ٹائیکون کے اکاو¿نٹ میں آئے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ جس شخص نے قومی خزانے میں 60ارب روپے کا ڈاکا ڈالا وہ کہتا ہے کہ کوئی مجھ سے سوال نہ پوچھے اور نہ کوئی گرفتار کرے، اگر قومی احتساب بیورو (نیب) ان کو گرفتار کرتا ہے تو وہ مخصوص مقامات پر احتجاج کروا کر لوگوں کے گھروں کو آگ لگواتا ہے، دفاعی تنصیبات پر حملہ کرواتا ہے اور جب سپریم کورٹ میں آتا ہے تو ویلکم کیا جاتا ہے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جاتا ہے اور اگلے دن ان نیک خواہشات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے دیکھا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان ڈیموکرٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے احتجاج شیڈول کیا ہے اور بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونے ہیں کیونکہ چیف جسٹس اور تین رکنی بینچ کے یکطرفہ فیصلوں اور رویوں کی وجہ سے لوگوں میں غم و غصہ بھی ہے۔ اس احتجاج سے متعلق دفاعی اداروں کی اطلاعات بہت الارمنگ ہے، عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے فتنے کو مائنس کریں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر یہ احتجاج ریڈ زون یا شاہراہ دستور پر ہوتا ہے تو اس پر کنٹرول کرنا مشکل ہوگا اس لیے میں نے وزیراعظم سے اس معاملے پر بات چیت جس کے بعد ان کی ہدایت پر ہم نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے درخواست کی ہے کہ وہ احتجاج کو ریڈ زون کے باہر کریں جس پر انہوں نے اپنی اور دیگر جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت کا کہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ سویلین بالادستی سے مراد یہ نہیں کہ آپ ان (فوج) کے گھروں کو آگ لگا دیں یا ان کو گالیاں دیں۔