قومی خبریں

عمران خان آج پیش ہوں وگرنہ ضمانت خارج ،اسلام آبادہائی کورٹ

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف بغاوت مقدمہ سمیت دیگر آٹھ کیسز میں عبوری ضمانت میں آج تک توسیع دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان آج حاضر نہ ہوئے تو ضمانت خارج کر دی جائے گی عدالت نے عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیاعمران خان کی عدم پیشی پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کہاں ہیں جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ نہیں آ سکے استثنی کی درخواست دائر کی ہے عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کو بھی سول کورٹ سمجھ رکھا ہے جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آج عمران خان کو ایمبولینس میں بھی آنا پڑا تو عدالت کے سامنے پیش ہوں گے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو اپنے دلائل میں بتایا کہ عمران خان منگل کو لاہور ہائی کورٹ میں خود پیش ہوئے حالانکہ پیشی ضروری نا تھی عمران خان کو شام پانچ بجے علم ہوا کہ کچھ غلط ہوا ہےشام سات بجے ٹانگ پر سوجن ہوئی تو شوکت خانم اسپتال جانا پڑا رات گیارہ بجے کے بعد میڈیکل سرٹیفکیٹ اور صبح ایکسرے میرے پاس آیا جس پر عدالت نے کہا کہ آپ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور انوسٹی گیشن بھی جوائن نہیں کی اگر ہم حاضری کو چھوڑ بھی دیں تو شامل تفتیش نا ہونے کا کیا کریں؟ جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز نے کہا کہ آپ شامل تفتیش کروائیں گے اس موقع پر عدالت نے کہا آپ مجھے بتائیں کہ ہم کیا کریں جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل گراو¿نڈ پر درخواست پہلی مرتبہ دی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ میڈیکل رپورٹ بھی پرائیویٹ اسپتال کا دے رہے ہیں سرکاری اسپتال سے علاج کیوں نہیں کراتے ،آپ کو معلوم ہے کہ ایسے کیسز میں سرکاری ہسپتال کی رپورٹ ہوتی ہے ،میرے ساتھی جج چاہتے تھے کہ ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت دے کر درخواست نمٹائی جائےقانون میں ضمانت قبل از گرفتاری میں حاضری سے معافی کہاں ہے؟گزشتہ سماعت پر بھی مثال دی تھی کہ کیا عام آدمی کی ضمانت ایسے ہو سکتی ہے؟ جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ71 سال کی عمر میں زخم بھرنے میں بھی وقت لگتا ہے ،اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کبھی تھریٹ ہے کبھی ٹانگ میں درد ہے چار پیشیوں پر حاضر نہیں ہوئے یہ آرڈر لے کر کوئی اور ملزم بھی آئے گا کہ یہ مثال موجود ہے جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ تین ماہ میں کسی ایک فرد کے خلاف 140 مقدمات نہیں بنے ،یہ غیر معمولی حالات بھی ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کسی بھی متعلقہ عدالت میں بھی جا سکتے ہیں ہم پٹیشنر کی غیر موجودگی میں دلائل نہیں سنیں گےہم کہہ چکے کہ عبوری ضمانت واپس لینے پر غور کریں گے آج صبح کے لیے آ جاتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم خارج کر دیں گے جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ چار پانچ دن کی تاریخ دیں دے اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ان کے لیے سیکورٹی کا بندوبست کیا ہے اور آج پھر کرنا پڑے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عمران خان کل پیش نا ہوئے تو ضمانت مسترد کر دی جائے گی قانون بڑا واضح اور سب کے لیے برابر ہے عدالت نے عمران خان کی نو مقدمات میں ضمانت درخواستوں پر سماعت آج تک ملتوی کر دی۔